ضمانت قبل از گرفتاری ختم کرنے حکومت کی درخواست مسترد
حیدرآباد ۔29 ۔ جنوری (سیاست نیوز) صدر تلگو دیشم اور سابق چیف منسٹر این چندرا بابونائیڈو کو انر رنگ روڈ مقدمہ میں سپریم کورٹ سے اس وقت راحت ملی جب عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرنے کیلئے آندھراپردیش حکومت کی جانب سے پیش کردہ درخواست کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ نے نائیڈو کی ضمانت کو برقرار رکھا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ 2022 میں مقدمہ کے بارے میں خصوصی درخواست داخل کی گئی۔ دفعہ 17-A کا اطلاق درخواست پر کیوں نہیں ہوتا۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ۔ آندھراپردیش حکومت کے وکیل نے آئی پی سی کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ چندرا بابو نائیڈو ضمانت قبل از گرفتاری کے مجاذ نہیں ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دفعہ 420 کے تحت بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل سدھارتھ لوترا نے سپریم کورٹ میں چندرا بابو نائیڈو سے متعلق دیگر مقدمات کی تفصیلات پیش کیں۔ عدالت نے کہا کہ دیگر مقدمات میں ملزمین کو باقاعدہ ضمانت اور بعض مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ چندرا بابو نائیڈو کے ضمانت پر باہر رہنے سے کیا نقصان ہے۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے سرکاری وکیل سے دریافت کیا کہ چندرا بابو نائیڈو پر سیکشن 420 کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے تمام زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد ہی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکار کیا۔ 1