چندرا بابو نائیڈو کے خلاف آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں درخواست

   

انتخابی مہم میں سرکاری رقومات کے استعمال کا الزام، 18 جون کو سماعت مقرر
حیدرآباد۔/14 جون، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سرکاری رقومات کے بیجا استعمال کی شکایت کرتے ہوئے بی انیل نامی شخص نے رٹ پٹیشن دائر کی۔ درخواست گذار نے کہا کہ چیف منسٹرکی حیثیت سے چندرا بابو نائیڈو نے بعض سرکاری اسکیمات کے نام پر رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ چندرا بابو نائیڈو سے یہ رقم وصول کی جائے۔ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرتے ہوئے 18 جون کو سماعت مقرر کی۔ اسی دوران آندھرا پردیش حکومت نے ہائی کورٹ کو اطلاع دی کہ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے چیف منسٹر کے عہدہ پر رہتے ہوئے کئے گئے دھرماپوراٹم دکھشا کے مسئلہ پر تفصیلات کے ساتھ جوابی حلف نامہ داخل کیا جائے گا۔ مشرقی گوداوری سے تعلق رکھنے والے وی سوریہ نارائن راجو نے عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے شکایت کی کہ فبروری میں چندرا بابو نائیڈو نے سیاسی مقصد براری کیلئے نئی دہلی میں دھرما پوراٹا دکھشا کا اہتمام کرتے ہوئے عوامی رقومات کا بیجا استعمال کیا ہے۔ کارگذار چیف جسٹس جسٹس سی پراوین کمار اور جسٹس ایم ستیہ نارائن مورتی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر موجود ایڈوکیٹ جنرل سبرامنیم سری رام نے عدالت کو بتایا کہ تمام تفصیلات کے ساتھ حلف نامہ داخل کیا جائے گا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے دو ہفتوں کا وقت مانگا ہے۔