چندریان پراجکٹ سے وابستہ کمپنی ملازمین کو 18 ماہسے تنخواہ نہیں: امیش سنگھ کشواہا

   

نئی دہلی :بہار جنتا دل یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈر چندریان۔3 کی کامیابی کا سہرا مودی جی کے سر باندھ رہے ہیں، لیکن چندریان 3 کے لانچنگ پیڈ سمیت تمام ضروری سامان بنانے والی کمپنی کے انجینئروں، افسران اور اہلکاروں کو گزشتہ 18 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ یہ کمپنی مرکزی حکومت کی بھاری صنعت کی وزارت کے تحت آتی ہے۔ کامیابی کا کریڈٹ لینے کے لیے قطار میں سب سے آگے کھڑی مودی حکومت تنخواہ کے سوالوں پر خاموش کیوں ہے؟ریاستی صدر نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی اور پورے ملک کے لیے شرم کی بات ہے کہ جن سائنسدانوں اور کارکنوں کی لگن کی وجہ سے آج پوری دنیا میں ہندوستان کی تعریف ہو رہی ہے، انہی کارکنوں اور سائنسدانوں کو اپنی روزی روٹی کیلئے قرض لینا پڑرہا ہے۔ کمپنی کے ملازمین ایک سال سے اپنی تنخواہوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، کئی بار انہوں نے دھرنا مظاہروں کے ذریعے مودی حکومت کو جگانے کی کوشش کی اور کمپنی کے ملازمین نے مرکزی حکومت کے ہیوی انڈسٹری کے وزیر سے ملاقات کے بعد اپنی بات رکھی، لیکن ابھی تک کسی حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ مودی حکومت کی بے شرمی کی اس سے زیادہ ٹھوس مثال کوئی نہیں ہو سکتی۔کشواہا نے کہا کہ کمپنی 1963 میں 22 ہزار ملازمین کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ بی جے پی کی مودی حکومت روزگار اور کاروباری اداروں سے متعلق بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن آج حقیقت ملک کے لوگوں کے سامنے ہے۔ مودی حکومت کی پوری توجہ صرف اپنے پروپیگنڈے پر ہے، حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ عام لوگ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔