ہر ستم تیرا گوارا تھا محبت میں مگر
غم تو اس کا ہے کرم نے مجھے برباد کیا
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو ایسا لگتا ہے کہ حضور آباد ضمنی انتخاب میں پارٹی کی شکست پر شدید برہم ہوگئے ہیں۔ پہلے تو انہوں نے حلقہ میںانتخابی مہم کے ذمہ دار قائدین اور وزراء پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اب وہ راست بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول رہے ہیں۔ انہوں نے دو دن میں دو مرتبہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور خاص طور پر پارٹی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کو نشانہ بنایا اور ان کو ملک کا غدار قرار دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ در اصل بی جے پی قائدین مسلسل چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان پر شخصی حملے کر رہے ہیں اور انہیں بدعنوانیوں کے الزام میں جیل بھیجنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ یہ دعوے در اصل بی جے پی قائدین کی جانب سے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔ مرکز میں سات سال سے بی جے پی برسر اقتدار ہے ۔ ریاست میں سات سال سے ٹی آر ایس کا اقتدار ہے ۔ ایسے میں اگر واقعی بی جے پی کو چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہوتی تو اب تک کی جاچکی ہوتی ۔ صرف زبانی دعوے کرنے اور میڈیا میںتشہیر حاصل کرتے ہوئے بی جے پی در اصل ریاست میں عوام کو اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حالانکہ دوباک کے بعد حضور آباد میں ٹی آر ایس کو شکست ہوئی ہے لیکن حضور آباد کی جیت کو بی جے پی کی جیت بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ صرف ایٹالہ راجندر کی کامیابی ہے ۔ شائد اسی لئے بھی چیف منسٹر زیادہ برہم ہیں کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پرا یٹالہ کو کامیاب ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے تھے ۔ ایٹالہ کو شکست دینے کے مقصد ہی سے انہوں نے ساری طاقت حضور آباد میں جھونک دی تھی ۔ ہریش راو ‘ گنگولا کملاکر اور دوسروں کو ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ کانگریس اور تلگودیشم کے کئی قائدین کو پارٹی کی صفوں میں شامل کرلیا تھا ۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود وہ حضور آباد میں ایٹالہ کی کامیابی کو روک نہیں پائے اور اس کامیابی کا سہرا بی جے پی اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔در اصل بی جے پی ایٹالہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر ٹی آر ایس اور کے سی آر کو نشانہ بنانے کوشاں ہے ۔
ایک حلقہ کا ضمنی انتخاب ہوا ہے اور اس میں ایک امیدوار کو کامیابی ملی ہے اس پر چیف منسٹر کو بہت زیادہ برہم ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بی جے پی قائدین کو شخصی تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کا وہ سیاسی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ریاست میں تین ارکان اسمبلی منتخب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ حضور آباد میں تو ایک شخصیت کی کامیابی ہے ۔ ایسے میں اگر چیف منسٹر مسلسل بی جے پی کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کے قائدین کے نام لے کر کوئی تبصرہ کرتے ہیں تو اس سے بی جے پی کی اہمیت میں ہی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ چیف منسٹر کو ضرور عوام کی نبض کو سمجھتے ہوئے کام کرنے اور اپنی پالیسیوں اور کچھ فیصلوں میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔ اس پر وہ اپنے مشیران کی رائے سے کام کرسکتے ہیں لیکن سیاسی اعتبار سے بی جے پی کو خود اپنے مد مقابل لا کھڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ جتنا زیادہ وہ بی جے پی قائدین کو تنقیدوں کا نشانہ بنائیں گے یا ان کی تنقیدوں کو اہمیت دینگے اتنا زیادہ بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے ۔ منفی تشہیر سے بھی فائدہ حاصل کرنا بی جے پی کا طریقہ کار رہا ہے ۔ چیف منسٹر کو سیاسی سمجھ بوجھ اور سنجیدگی کے ساتھ ریاست کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے اور اس کے مطابق اپنے انداز میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کو کم از کم تلنگانہ میں قدم جمانے کا موقع نہ مل سکے ۔ جو وقتی کامیابی ہے بی جے پی اس کی ضرورت سے زیادہ تشہیر کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے کوشاں ہے ۔
حکومت چلانے میں یہ حقیقت ہے کہ کچھ خامیاں رہ جاتی ہیں یا کچھ فیصلے غلط بھی ہوسکتے ہیں لیکن ٹی آر ایس قیادت کے پاس ابھی کافی وقت ہے ۔ ریاست بھر کے عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے انہیں اپنے طرز کارکردگی کو تبدیل کرتے ہوئے عوام کے درمیان وقت گذارنے کی ضرورت ہے ۔ عوامی نمائندگیوں کو اہمیت دی جانی چاہئے ۔ صرف مخصوص قائدین کو باربار تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا دانشمندی نہیں ہوگی اور چیف منسٹر کو جارحانہ تیور عوام کو راحت پہونچانے اور انہیں اعتماد میں لینے کیلئے دکھانے چاہئیں ۔ اپنی خامیوں کو دو رکرتے ہوئے بی جے پی کو روکا جاسکتا ہے ۔
