چوہان کا مدھیہ پردیش :احتجاج پر کپڑے اتروادیئے

   

آرٹسٹ کی گرفتاری پر احتجاج میں چیف منسٹر کیخلاف نعرے لگانے پر پولیس کی کارروائی

بھوپال ؍ حیدرآباد : یوں تو کوئی سرزمین جیسے ریاست یا مملکت کسی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ وہ وہاں کے جملہ لوگوں کے نام ہوتی ہے۔ تاہم ہندوستان میں گذشتہ دو دہوں سے مختلف ریاستوں میں کچھ ایسی سیاسی اور انتظامی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں کہ گمان ہوتا ہیکہ وہ ریاست یا علاقہ لوگوں کا نہیں بلکہ مختلف میعاد کیلئے منتخب فرد کا ہوچلا ہے۔ 2001ء سے 2014ء تک مغربی ریاست گجرات مخصوص سیاسی لیڈر کی سرگرمیوں سے منسوب رہی اور لگ بھگ ہمیشہ شہہ سرخیوں میں بھی رہی۔ حالیہ برسوں میں اترپردیش کو بھی مخصوص سیاسی لیڈر کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اب تازہ واقعہ یا تبدیلی مدھیہ پردیش میں رونما ہوئی ہے جہاں احتجاج کرنے پر حکام احتجاجیوں کے کپڑے اتروارہے ہیں۔ یہ واقعہ دراصل مدھیہ پردیش کے ضلع سدھی کا ہے جہاں 2 اپریل کو ایک گروپ جس میں ایک مقامی جرنلسٹ اور چند جہدکار شامل تھے، اس نے ایک آرٹسٹ نیرج کندر کی گرفتاری کے خلاف کوتوالی پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج منظم کیا۔ بتایا گیا کہ نیرج کو فرضی فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے کیدارناتھ شکلا اور اس کے بیٹے گرودت شکلا کے خلاف پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ جرنلسٹ کنشک تیواری اور جہدکاروں کے بشمول چندافراد کے گروپ نے نیرج کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے روبرو مظاہرہ کیا۔ 2 اپریل کو پیش آئے واقعہ میں تمام احتجاجیوں کو پولیس نے حراست میں لیا۔ بتایا گیا کہ احتجاجیوں نے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کے خلاف بھی نعرے لگارہے تھے۔ پولیس نے احتجاجیوں کو اپنے کپڑے اتار کر نیم برہنہ ہونے پر مجبور کیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ جمہوری ملک میں احتجاج ایسا کیا نازیبا جرم ہوگیا کہ ملزم کو ذلت اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔ 3 اپریل کو محروسین کو رہا کردیا گیا اور 6 اپریل کو 2 متعلقہ پولیس عہدیداروں کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ احتجاجیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعہ کی مکمل جانچ کرنے اور خاطیوں کو سزاء دینے کا مطالبہ کیا ہے۔