تِل چھوٹے یا بڑے کسی بھی جسامت کے اور جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں اور یہ اُبھرا ہوا صرف سیاہ رنگ کا ایک چھوٹا سا نشان بھی ہو سکتا ہے۔ Liver Spots اور تِل میں فرق ،اول الذکر Spots جسم پر زیادہ دھوپ لگنے کی وجہ سے بھی اُبھر آتے ہیں یہ سلور اسپاٹس عمر کے کسی بھی حصے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان نشانوں کو مٹایا نہیں جا سکتا۔تاہم آپ دھوپ سے بچاؤ کر کے ان نشانوں کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔اکثر لوگ بلیچنگ کریم لگا کر ان داغوں کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بہت خطرناک عمل ہے ان کے استعمال کے بعد جلد پر سوزش بھی ہو سکتی ہے۔
کیا یہ خوش قسمتی کے نشان ہوتے ہیں؟ :جسم پر تِلوں کے نشانات کی مخصوص جگہیں بھی خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور بہت سے لوگ اپنے تِل مٹا دینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بدقسمتی کے نشان ہوتے ہیں۔اگر ہونٹوں کے قریب یا دہانے کے کسی کونے پر کوئی تِل ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص کھانے پینے کا بہت شوقین ہے۔ایسے لوگ سمندر کے کسی حادثے کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔سر کے اوپر تِل خوش قسمتی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔چینیوں کا خیال ہے کہ رخساروں کی ہڈی کے اطراف کا تِل چہرے کا حسن بڑھاتا ہے۔ اگر تِل دونوں طرف رخساروں کی ہڈی پر ہو تو ایسا شخص پْرعزم سمجھا جاتا ہے اور اگر ایک ہی تِل ہو تو عام سی شخصیت کہلاتے ہیں۔
خوبصورتی کے تِل :قدرتی طور پر یہ چہرے پر مناسب جگہ پر تھے اس لئے انہیں خوبصورتی کا نشان سمجھا جانے لگا۔سیاہ تِل کے علاوہ بھورے تِل بھی ہوتے ہیں۔ یہ چہرے کے علاوہ باقی جسم پر بھی قدرتی طور پر موجود ہوتے ہیں۔تِلوں کی بہتات کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں مثلاً کسی خاص یا طویل بیماری کے بعد جسمانی کمزوری، کسی خاص اجزاء کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے بھی نکل آتے ہیں۔ایسی کوئی بھی علامت پریشان کن حد تک بڑھنے نہ پائے اس لئے آپ ماہر امراض جلد سے رابطہ کر لیا کریں۔جلد کا فوری طور پر معائنہ ہو جائے اور اگر کچھ ٹیسٹ تجویز کئے جائیں تو انہیں کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ان ٹیسٹوں سے آپ کی جسمانی کیفیت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔