چیف منسٹرریونت ریڈی نے کوڑنگل میں حکومت کی 4 نئی اسکیمات کا آغاز کیا

   

31 مارچ تک عمل آوری کا تیقن، 40 لاکھ راشن کارڈز جاری ہوں گے، کے سی آر خاندان نے ریاست کو لوٹ لیا لیکن میرا خاندان عہدہ کے بغیر عوام کی خدمت میں مصروف
حیدرآباد۔/26 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نارائن پیٹ ضلع کے کوسگی منڈل میں حکومت کی چار نئی اسکیمات کا آغاز کیا اور استفادہ کنندگان میں امدادی رقم کے چیکس تقسیم کئے۔ ریاست بھر میں آج سے چار نئی اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوا ہے جن میں رعیتو بھروسہ، اندراماں آتمیا بھروسہ، اندراماں ہاؤزنگ اور نئے راشن کارڈز کی اسکیم شامل ہے۔ کوڑنگل اسمبلی حلقہ کے تحت کوسگی منڈل کے چندرا ونچا گاؤں میں چیف منسٹر نے 734 کسانوں میں رعیتو بھروسہ اسکیم کے چیکس تقسیم کئے جبکہ اندراماں ہاؤزنگ کے تحت 11.80 کروڑ کے چیکس کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ کل 27 جنوری سے کسانوں کے اکاؤنٹ میں رعیتو بھروسہ اسکیم کی امدادی رقم جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی توقعات کے مطابق پرجا پالنا کے تحت مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے 2022 تک کوڑنگل اسمبلی حلقہ کو ترقی میں حصہ داری نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے کسانوں کو مفت برقی سربراہی اسکیم پر عمل کیا اور برقی کے بقایا جات معاف کئے گئے۔ یو پی اے دور حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کسانوں کے 72 ہزار کروڑ کے قرضہ جات معاف کئے۔ تلنگانہ حکومت نے انتخابی وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے 22.50 لاکھ کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات کی معافی کیلئے 21000 کروڑ جاری کئے۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں 7000 کروڑ روپئے کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کئے گئے۔ حکومت نے اقتدار کے پہلے سال 55145 سرکاری جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے اور زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت سربراہی کے علاوہ 200 یونٹ مفت برقی اور 500 روپئے میں گیس سلینڈر کی سربراہی پر عمل کیا ہے۔ گذشتہ 13 ماہ میں 120 کروڑ خواتین نے مفت سفر کیا ہے اور حکومت نے آر ٹی سی کو 4000 کروڑ ادا کئے ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے فی ایکر 5 ہزار روپئے ادا کئے تھے جبکہ کانگریس حکومت 12 ہزار روپئے ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوڑنگل سے چار اسکیمات کا آغاز کرتے ہوئے ریاست کے عوام کیلئے معنون کرتے ہیں۔ انہوں نے کوڑنگل کے عوام کو یقین دلایا کہ 15 تا 20 ہزار مکانات تعمیر کرتے ہوئے غریبوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر 80 ہزار کتابیں پڑھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے خود کو دانشور قرار دیتے ہیں جبکہ کے ٹی آر خود کو امریکی طالب علم کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن دونوں قائدین غریبوں کو راشن کارڈز کی اجرائی کی اہمیت سے واقف نہیں اور دس برسوں میں ایک بھی راشن کارڈ جاری نہیں کیا گیا جبکہ کانگریس حکومت نے 40 لاکھ راشن کارڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور راشن کارڈز پر باریک چاول سربراہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری 31 مارچ تک مکمل کرلی جائے گی۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ گرام سبھاؤں میں عوام کو مشتعل کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات سے محروم کرنے کی سازش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ سے کالیشورم پراجکٹ کی ناقص تعمیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے اپنے فارم ہاوز کی تعمیر اور عوامی رقومات کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی طور پر صفائے کے خوف سے اپوزیشن سرکاری اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ قائد اپوزیشن کے سی آر نے گذشتہ 13 ماہ میں ایک دن بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا قائد اپوزیشن کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں۔ کوڑنگل کی صنعتی ترقی کیلئے 1300 ایکر اراضی حاصل کی گئی اور صنعتوں کے قیام سے مقامی افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔ اپوزیشن نے مقامی افراد کو مشتعل کرتے ہوئے عہدیداروں پر حملہ کروایا۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا کوڑنگل کے عوام ہمیشہ پسماندہ رہیں۔ کیا کوڑنگل میں میڈیکل، انجینئرنگ، پالی ٹیکنک اور جونیر کالجس قائم نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور ان کا خاندان موج منارہا ہے جبکہ میرے افراد خاندان کسی عہدہ کے بغیر عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ 1