ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
ویسے تو بی جے پی کے تقریبا تمام ہی سیاسی قائدین بے لگام ہوگئے ہیں اور مسلم دشمنی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ ریاستی وزراء ہوں ‘ مرکزی وزراء ہوں یا پھر کسی ریاست کے چیف منسٹر ہی کیوں نہ ہوں۔ تمام قائدین چاہتے ہیں کہ مسلم دشمنی کا کھلا اظہار کرتے ہوئے پارٹی اور سنگھ کی صفوں میں اپنے موقف کو مستحکم کریں اور سرکاری عہدے حاصل کرتے جائیں۔ جس طرح بی جے پی لگاتار مسلم مخالف بیانات اور اقدامات کے ذریعہ اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی حکمت علی پر عمل پیرا ہوتی ہے اسی طرح بی جے پی کے قائدین لگاتار مسلم دشمن بیانات دیتے ہوئے اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے عہدے حاصل کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ان میں آج کل سب سے زیادہ اچھل کود کرنے والے بی جے پی لیڈر آسام کے چیف منسٹر ہیمنتا بسوا سرما ہیں جو ایک ریاست کے چیف منسٹر کے عہدہ کا وقار بھی برقرار رکھنے کو تیار نہیں ہیں اور کسی گلی کوچے کے لیڈر کی طرح بیان بازیاں کر رہے ہیں اور کھلے عام دستوری عہدہ پر رہتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں۔ وہ کبھی مسلمانوں کو میاں اور ملا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو کبھی یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو تکلیف پہونچانا ان کا فریضہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جس دستوری عہدہ پر فائز ہیں وہ ان کی ذمہ داری بناتا ہے کہ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کریں اور تمام طبقات کی فلاح و بہبود اور بہتری کیلئے جامع اور موثر اقدامات کریں۔ اس کے برخلاف ہیمنتا بسوا سرما مسلمانوں کو تکلیف پہونچانے کو اپنا فریضہ قرار دیتے ہیں جو دستور کی دھجیاں اڑانے والا بیان ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انہیں ایک مسلمان شخص پر بندوق سے نشانہ سادھتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ یہ بھی دستور کی سنگین اور صریح خلاف ورزی ہے اور قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس کے باوجود کوئی تحقیقاتی ایجنسی یا مرکزی حکومت ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کرتی ۔
ہیمنتا بسوا سرما وہی شخص ہیں جن کے خلاف خود بی جے پی کی جانب سے کتابچہ شائع کرتے ہوئے سینکڑوں کروڑ روپئے کے گھوٹالے اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا تھا ۔ ان کے خلاف تحقیقات کروانے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جب وہ کانگریس میں تھے اور آسام کے وزیر تھے ۔ اس کے بعد جب ہیمنتا بسا سرما نے کانگریس سے ترک تعلق کرلیا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تو بی جے پی نے ان کے خلاف تمام الزامات پر خاموشی اختیار کرلی ۔ یہی نہیں بلکہ انہیں آسام کا چیف منسٹر بھی بنادیا جب انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد سے لگاتار ہیمنتا بسوا سرما مسلمانوں کے خلاف کھلی اور واضح زہر افشانی کر رہے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو اس ملک اور ریاست آسام کا شہری سمجھنے سے زیادہ دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے خلاف لگاتار بیان بازیاں کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح کی بیان بازی کرتے ہیں جس طرح کسی گلی کوچے کا لیڈر بھی نہیں کرسکتا ۔ ہیمنتا بسوا سرما شائد بی جے پی کے اس احسان کا بدلہ چکا رہے ہیں جو بی جے پی نے انہیں چیف منسٹر بناتے ہوئے کیا تھا اور ان کے خلاف عائد کردہ تمام سنگین الزامات پر خاموشی اختیار کرلی تھی ۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے دستوری عہدہ کے وقار کو پامال کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے کہ ملک کا قانون بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا ۔
اس ملک میں اب مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور خود مرکزی حکومت سے کسی غیرجانبدارانہ کارروائی اور تحقیقات کی امید تو فضول ہی ہوگئی ہے اور اس بات کی کوئی امید نہیں رہ گئی ہے کہ ہیمنتا بسوا سرما کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی ۔ ایسے میں سماج کے ہی متفکر اور اصول پرست گوشوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چیف منسٹر آسام کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔ ان کو لگام کسنے کی کوشش کریں۔ ان کے خلاف کارروائی اور ان کی گرفتاری کیلئے اقدامات کریں تاکہ دستور کی دھجیاں اڑانے والوں کو سبق سکھایا جاسکے اور اس کیلئے واحد امید اور راستہ ملک کی عدالتیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔