چیف منسٹر ایڈورپا کے استعفی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایشورپا

   

شیواموگا۔ کرناٹک کے سینئر وزیر کے ایس ایشورپا نے آج کہا کہ چیف منسٹر کرناٹک کی حیثیت سے ایڈورپا کے استعفی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے خلاف گورنر کو اپنے مکتوب کو انتظامی مسئلہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر سدارامیا خود چیف منسٹر بننے کے خواب کے تحت ایڈورپا سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایشورپا نے حال ہی میں چیف منسٹر ایڈورپا کے خلاف گورنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان کے کام کاج میں راست مداخلت کا الزام عائد کیا تھا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ چیف منسٹر کو اپنے عہدے سے استعفی پیش کردینا چاہئے ۔ انہوں نے گورنر سے بھی مداخلت کرنے اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ایشورپا نے کہا کہ سدارامیا چیف منسٹر بننے کیلئے جلد بازی میں ہیں ۔ عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے ۔ انہیں چامنڈیشوری حلقہ میں عوام نے شکست دیدی ہے ۔ وہ اب یہ تصور کر رہے کہں اگر ایڈورپا استعفی پیش کردیں تو وہ چیف منسٹر بن جائیں گے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایڈورپا کے استعفی پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سدارامیا کو دوبارہ چیف منسٹر بننے کا خواب ترک کردینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا ریاست میں بی جے پی کی تنظیمی طاقت کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیںاسی لئے اس طرح کے تصورات کا شکار ہیں۔