چیف منسٹر بھی محفوظ نہیں

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے غنڈہ عناصر نے آج دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کی قیامگاہ پر حملہ کردیا اور وہاں توڑ پھوڑ مچائی ۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے یہ عناصر نفرت کے پروپگنڈہ کیلئے بنائی گئی فلم دی کشمیر فائیلس پر اروند کجریوال کے ریمارکس اور تبصروں پر برہم تھے ۔ کجریوال نے اس فلم کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں وہ بیشتر ہندوستانیوں کی ترجمانی ہے ۔ انہوں نے میڈیا کے پروپگنڈہ یا پھر واٹس ایپ یونیورسٹی کی تشہیر اور اس کے حربوں کا شکار ہوئے بغیر الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔اروند کجریوال کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے مرکز میں بحیثیت مجموعی بارہ سال سے زیادہ حکومت کی ہے لیکن ایک بھی کشمیری پنڈت کو وادی میں واپس بسانے میںکوئی رول ادا نہیںکیا ۔ ان کشمیری پنڈتوں کے تعلق سے کوئی فلاحی اسکیم شروع نہیں کی گئی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وادی میںپنڈتوںکے تعلق سے جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اس حکومت میں ہوا تھا جو بی جے پی کی تائید سے مرکز میں قائم ہوئی تھی ۔جس وقت وادی میں ہنگامے ہوئے تھے اس وقت ریاست میں گورنر راج تھا اور یہ وہی گورنر تھے جنہیں بی جے پی کی تائید و حمایت والی حکومت نے بھیجا تھا ۔ ملک کے کئی گوشوںکی جانب سے کشمیر فائیلس فلم پر اسی طرح کے تبصرے کرتے ہوئے بی جے پی سے سوال کئے جا رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کی جانب سے اس فلم کی تشہیر کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جارہی ہے اور حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرتے ہوئے بی جے پی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں حسب روایت کی جا رہی ہیں۔ اروند کجریوال نے ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر بھی اینکرس کا منہ بند کروادیا تھا اور بی جے پی کی سنجیدگی کے تعلق سے سوال کیا تھا ۔ ٹی وی چینلس کے اینکرس تو اروند کجریوال کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ایسے میںغنڈہ عناصر نے ان کے گھر پر حملہ کردیا اور وہاں توڑ پھوڑ مچائی ۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے کیونکہ بی جے پی کے غنڈہ عناصر ایک چیف منسٹر کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔
بی جے پی کی جانب سے اس متنازعہ اور نفرت کے ایجنڈہ کو فروغ دینے بنائی گئی فلم کی تشہیر میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کا اور اس کے قائدین کا الزام ہے کہ اروند کجریوال نے کشمیری پنڈتوں کے قتل عام پر عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کشمیری پنڈتوں کے مسائل کا استحصال کر رہی ہے اور ان سے خود سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جس طرح اروند کجریوال نے کہا کہ بی جے پی نے ان کشمیری پنڈتوںکوو ادی میںو اپس لا کر بسانے کیلئے ایک قدم تک آگے نہیں بڑھایا ہے ۔ صرف ان کے نام پر سیاست کرتے ہوئے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پارٹی کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرنے والوںکو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اگر بی جے پی کو آئینہ دکھانے کی کوشش ایک چیف منسٹر بھی کرتا ہے تب بھی اسے نشانہ بنایا یا جا رہا ہے ۔ یہ بی جے پی کی غنڈہ گردی ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی نہیںچاہتی کہ عوام میںشعور پیدا ہوجائے اور لوگ اس سے سوال کرنے لگیں۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ جو کچھ وہ چاہتی ہے اسی ایجنڈہ کو عوام قبول کریں۔ جو کچھ زرخرید میڈیا کے تلوے چاٹو اینکرس عوام کے ذہنوں میںانڈیلنے کی کوشش کریں اسے قبول کرلیا جائے ۔ عوام میںسچائی کو عام کرنے اور حقیقت کو پیش کرنے کی کوششوں کو قبول کرنے یا برداشت کرنے کیلئے بی جے پی تیار نہیں ہے ۔ یہ صورتحال ملک کی جمہوریت کیلئے بھی تشویشناک ہی ہے ۔
عوام کے ووٹ سے جمہوری طور پر منتخب ایک چیف منسٹر کے گھر پر اس طرح کا حملہ کیا جانا افسوسناک ہے ۔ ماضی میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بی جے پی کی بات کو کسی نے قبول نہیں کیا تو اسے غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا گیا اور حملہ کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ بی جے پی کو ایسی کوششوںسے باز آجانے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے عوام کو اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔کسی بات سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اسے حملہ کا نشانہ بنایا جائے ۔ جن عناصر نے ایک چیف منسٹر کی قیامگاہ پر اس طرح کی غنڈہ گردی کی حرکت کی ہے ان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔