مرکزی حکومت کو متعدد شکایتیں ، بدعنوانیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔16مارچ(سیاست نیوز) چیف منسٹرتلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو پھانسنے کے لئے مرکزمیں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جو طریقہ کار اختیار کیا جا رہاہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس اور یوپی اے کے طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی موت کے بعد ان کے فرزند وائی ایس جگن موہن ریڈی کی بغاوت سے نمٹنے کے لئے کانگریس نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہی حکمت عملی اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اختیار کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اپوزیشن قائدین کی شکایت کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی جانب سے کاروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ ‘ حکومت تلنگانہ اور چیف سیکریٹری تلنگانہ سومیش کمار کے خلاف شکایات موصول ہونے لگی ہیں ۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی کانگریس سے دوری اور بغاوت کے بعد تلگودیشم پارٹی رکن پارلیمنٹ مسٹر کے ایرم نائیڈو نے ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں وائی ایس جگن موہن ریڈی کی بدعنوانیوں کی یو پی اے حکومت سے شکایت کی تھی اور مرکزی حکومت سے خواہش کی تھی کہ وہ جگن موہن ریڈی کے غیرمحسوب اثاثہ جات کے معاملہ میں سی بی آئی سے تحقیقات کروائیں جس پر مرکزمیں کانگریس کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی جانب سے سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کے بعد وائی ایس جگن موہن ریڈی کو گرفتار کیا گیا تھا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی بھی کانگریس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف کاروائی کی حکمت عملی میں مصروف نظر آرہی ہے کیونکہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے راست وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار حکومت اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی بدعنوانیوں کی شکایت کی ہے اور سنگارینی کالریز میں ہونے والے اسکام کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروانے کی خواہش کی ہے۔ یوپی اے دور حکومت میں شکایت کرنے والے بھی اپوزیش رکن پارلیمنٹ ایرم نائیڈو تھے اور اب اپوزیشن رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ہیں جو مرکزسے شکایت کے ساتھ رجوع ہوئے ہیں۔ اسی طرح کریم نگر رکن پارلیمنٹ و صدر ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی بنڈی سنجے نے بھی مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت بدعنوانیوں وبے قاعدگیوں میں ملوث ہے اور مرکز کو فوری طور پر کالیشورم پراجکٹ میں کی جانے والی بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لئے اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے علاوہ ازیں رکن اسمبلی دوباک مسٹر رگھونندن راؤ جو کہ پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے چیف سیکریٹری تلنگانہ مسٹر سومیش کمار کی شکایت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور الزام عائد کیا ہے کہ چیف سیکریٹری تحقیر عدالت کے مرتکب ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ان کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔م