چیف منسٹر کے اعلانات عوام کی توجہ ہٹانے کا حربہ : جیون ریڈی

   

ٹی آر ایس اقتدار کے 8 سال بعد بھی کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدے پورے نہیں ہوئے ، طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ

جگتیال : جگتیال کانگریس پارٹی سینئر قائد و رکن قانون ساز کونسل ٹی جیون ریڈی نے آج دوپہر اندرا بھون میں کانگریس قائدین ، ٹاون پریسڈینٹ کتہ موہن، بلدیہ کونسل فلور لیڈر درگیہ ، آرگنائزنگ سیکریٹری بنڈہ شنکر ، سابقہ کونسلر راجیندر کے ہمراہ پریس کانفرنس کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کے جی تا پی جی تمام مدارس کو انگلش میڈیم میں تبدیل کرنے نظم و نسق میں اصلاحات کیلئے چار رکنی آئی اے ایس عہدیداران کمیٹی اور مہیلہ اور فارن یونیورسٹی کے قیام کافیصلہ قابل ستائش ہے لیکن یہ اعلان بھی عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک سازش اور نیا شوشا قرار دیا۔تعلیمی شعبے کودرھم برہم کرنے اورطلباء کے مسقبل سے کھلواڑ کرنے کا کے سی آر پر انھوں نے الزام لگایا اور کہا کہ 2014 ء میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد پہلے اسمبلی انتخابات میں KG to PG مفت تعلیم کے وعدے سے اقتدار میں آکر ٹی آر یس حکومت 8 سال کا عرصہ میں وعدے کو پورا نہیں کیا اور فیسوں کی من مانی وصولی کے خلاف حکومت کی جانب سے قائم کردہ عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تروپتی راؤ کمیٹی کی رپورٹ کو پہلے منظر عام پر لایا جائے اورحقیقت میں حکومت فیسوں کی وصولیوں کے معاملے میں سخت موقف رکھتی ہے تو یونیورسٹیوںمیںفیسوںکی وصولی میں ہوئی بے قاعدگیوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ 8 سال کے عرصے میں ٹیچرس اہلیت ٹیسٹ TET کا انعقاد عمل میں نہ لانے والی ملک کی پہلی ریاست تلنگانہ ٹرائبل یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرکے 7 سال کا عرصہ ہوا ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے پہلے تلنگانہ میں اساتذہ کے تقررات کیلئے TET کا انعقاد آن لائین یا آف لائین کرنے کا مطالبہ کیا اور نئے تعلیمی سال ماہ جون تک تمام مدارس میں مخلوعہ جائیداد پر تقررات کیا جائے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اساتذہ کی 20 ہزار جائیدادیں مخلوعہ ہیں ، افسوس مدارس میں طلباء کی تعداد کے لحاظ سے اساتذہ کا تقرر اور ایک کلاس میں تین چار جماعتوں کے طلبا کو ایک ساتھ ایک ٹیچر کے ساتھ تعلیم کی فراہمی سے تعلیم پر اثر پڑھنے اور اولیا طلبا اس وجہ سے خانگی مدارس کی سمت رخ کرتے ہوئے مالی بوجھ سے پریشان ہونے کی بات کہی۔ ہر جماعت کو علیحدہ کلاس روم اور اسی مناسبت سے اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنانے کا مطالبا کیا۔ انہوں نے مڈ ڈے میل ورکرس کا کوئی پرسان حال نہ ہونے کا الزام لگایا ۔ مڈ ڈے میل ورکرس کو اقامتی مدارس کی طرح اشیاے ضرور ی کی فراہمی کا مطالبا کیا اور آرٹیکل 317 کو رد کرنے اور میاں بیوی ملازمین کو ایک ساتھ ایک ہی مقام پر پوسٹنگ دینے اور مستقبل میں آرٹیکل 371D کے مطابق مناسب طریقے سے انجام دینے کا مطالبہ کیا ۔