چینی وزیر اعظم لی کیانگ، جاپانی وزیر اعظم فیومو کیشیدا اور جنوبی کوریا کے صدر یون سک ایول نے آپس میں زیادہ وسیع پیمانے پر تعاون کی اپیل کی ہے۔پیر کے روز ہونے والی یہ سمٹ تقریباً پانچ سال کے دوران پہلی سہ فریقی میٹنگ تھی۔تینوں ملکوں کے رہنماوں نے سمٹ کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ چینی وزیر اعظم نے اس سمٹ کو ایک نئی شروعات قرار دیتے ہوئے ممالک پر کثیر جہتی کو فروغ دینے اور تجارتی تحفظ پسندی کے خلاف لڑائی کی اپیل کی۔لی کیانگ کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک باہمی طور پر فائدہ مند اور ایک ایسے تعاون کے خواہش مند ہیں، جس میں ہر ایک کا فائدہ ہو۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا کے مطابق چینی وزیر اعظم نے”اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی داوں پیچ یا سکیورٹی کے معاملات میں تبدیل کرنے اور تحفظ پسندی کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ سپلائی چین کو الگ کرنے یا منقطع کرنے کی بھی مخالفت کرنے پر زور دیا۔”سیول میں میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر یون نے شمالی کوریا کی جانب سے ایک جاسوس سیٹلائٹ خلاء میں بھیجنے کے خلاف سخت بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کیا۔جاپانی وزیر اعظم کیشیدا نے بھی شمالی کوریا سے سیٹلائٹ لانچنگ کو روکنے کا مطالبہ کیا۔تینوں ملکوں کے رہنماوں کے مذاکرات میں شمالی کوریا کا جاسوس سیٹلائٹ لانچنگ کا معاملہ ایجنڈے میں باضابطہ شامل نہیں تھا۔ اس کے بجائے بیجنگ، ٹوکیو اور سیول کا مقصد آسان اقتصادی بنیادوں کے سلسلے میں اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
لیکن پیونگ یانگ کی جانب سے سیٹلائٹ کی لانچنگ کے اعلان نے اس کو بھی ایجنڈے میں شامل کردیا۔