چین کی جانب سے معاشی جاسوسی اور ہیکنگ پر امریکہ وبرطانیہ کے تحفظات

   

امریکی تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی ) اوربرطانیہ کی انٹلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہان نے چینی حکومت کے بارے میں اپنے تازہ ترین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کاروباری قائدین کو متنبہ کیا ہے کہ مسابقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے بیجنگ ان کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے اس حوالے سے اپنے دیرینہ خدشات کا اعادہ کرتے ہوئے چین کی جانب سے معاشی جاسوسی اور ہیکنگ کی کارروائیوں کی مذمت کی اور ساتھ ہی بیرونی ممالک میں اختلافی آوازوں کو دبانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چہارشنبہ کو لندن میں ایم آئی فائیو کے ہیڈ کواٹرز میں کیا، جہاں ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کین میک کیلم بھی موجود تھے۔ مبصرین ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی برطانوی انٹلی جنس ایجنسی کے دفتر میں موجودگی کو چین کے خلاف مغرب کی یکجہتی کے مظاہرے کے طور پر اہمیت دے رہے ہیں۔اے پی کے مطابق ان ریمارکس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ایف بی آئی اور ایم آئیفائیو، دونوں، چینی حکومت کو نہ صرف قانون نافذ کرنے اور انٹلی جنس کے حوالے سے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں بلکہ بیجنگ کی خارجہ پالیسی کے اقدامات کے مضمرات کے حوالے سے بھی ہم خیال ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے مزید کہا کہ ہم مسلسل دیکھتے ہیں کہ چینی حکومت ہماری اقتصادی اور قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا اورطویل المدتی خطرہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپ اور دیگر جگہوں پر دونوں ممالک کے اتحادیوں کو چین کی کاروائیوں سے خطرہ ہے۔