چین کی سرگرمیاں اور حکومت

   

Ferty9 Clinic

خبر کے موڑپہ سنگ نشاں تھی بے خبری
ٹھکانے آئے مرے ہوش یا ٹھکانے لگے
چین کی جانب سے ہندوستان کی سرزمین میںدراندازی ‘ قبضہ اور تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ خود امریکی محکمہ دفاع پنٹگان کی رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ چین اروناچل پردیش میںتقریبا پانچ کیلومیٹر تک ہندوستان کی سرحدات میں گھس آیا ہے ۔ ہندوستانی سرزمین پر اس نے ایک گاوںبھی بسادیا ہے ۔ یہاں ایک سو سے زیادہ گھر تعمیر کردئے گئے ہیں۔ مختلف سہولیات کیلئے علیحدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ یہ سارا کچھ ہندوستان کی سالمیت کی خلاف ورزی اور چین کے جارحانہ عزائم کا ثبوت ہے ۔ ہندوستان کی حکومت تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس سارے معاملے کو عوام کی نظروں سے دور اوراوجھل رکھنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے سرکاری طور پر اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیںکیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک کی؎ سرحدات کی کہیں بھی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ابتداء ہی سے چین کے عزائم جارحانہ رہے ہیں۔ وہ وقفہ وقفہ سے ارونا چل پردیش سے ملنے والی سرحدات کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے ۔ ماضی میں بھی چین نے یہاںمداخلت کی تھی ۔ ہندوستان کی سرزمین میں وہ گھس آیا تھا ۔ یہ بھی دعوے کئے گئے تھے کہ اس نے ہندوستان کی سرزمین پر ایک فضائی پٹی قائم کرلی ہے ۔ سرحدات پر دونوںممالک کی افواج کا آمنا سامنا بھی ہوا تھا ۔ فوجی اجتماع بھی کیا گیا تھا ۔ تااہم بعد میں بات چیت کے بعد صورتحال کو درست کرلیا گیا تھا ۔ سارا کچھ چین کی سرحدات پر ہوتا رہا ہے لیکن ہماری حکومت اس مسئلہ پر کوئی سخت گیر اقدام کرنے سے یا پھر چین کی مخالف ہند سرگرمیوں کے مراکز پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے سے گریز کر رہی ہے ۔ ہندوستان میں عوام کو یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے ۔ امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کے مطابق تو ہندوستان کی سرزمین میں پانچ کیلومیٹر تک اندر گھس کر چین نے ایک گاوں تعمیر کردیا ہے اور یہا ں گھر تعمیر کردئے ہیں۔ حکومت ہند کو اس معاملے کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ چین کے خلاف سخت گیر موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ بقول وزیراعظم نریندر مودی چین سے آنکھیں لال کرکے بات کرنے کی ضرورت ہے ۔
چین سے ملنے والی سرحدات کی صورتحال پر حکومت کی خاموشی سے ملک کے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ہمارے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے بھی آج کہا ہے کہ ہندوستان کیلئے چین ہی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ ایک ذمہ دار اعلی فوجی عہدیدار کا یہ بیان بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہی ہوتا ہے ۔ یہ کوئی معمولی خطرہ نہیں کہا جاسکتا ۔ حکومت ہند کو سب کچھ ٹھیک ہے کا تاثر دینے کی بجائے حقیقت کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ہماری سر زمین کو بچانے کیلئے جو کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے کیا جانا چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتیں اور خاص طور پر کانگریس لیڈر راہول گاندھی اس مسئلہ پر مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی لاپرواہی یا جھجھک کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور چین کے عزائم اور حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت ہند کی خاموشی کے نتیجہ میں چین کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ وہ ہماری سرحدات کی مزید خلاف ورزیاں کرسکتا ہے ۔ چین کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سفارتی سطح پر چین کے ساتھ یہ مسئلہ رجوع کیا جانا چاہئے ۔سرحدات پرحفاظتی انتظامات کو مزید سخت اورچوکس کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو تعمیرات یہاں چین کی جانب سے کی گئی ہیں ان کو اکھاڑ پھینکنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ ملک کی سالمیت کا مئسلہ ہے اور اس پر کسی طرح کے تغافل یا لاپرواہی کی کوئی بھی گنجائش نہیںرہنی چاہئے ۔
ملک کی سلامتی اور تحفظ پر عامیانہ انداز و رویہ اختیار کرنے کی بجائے اسے انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے اہم قائدین کو اعتماد میں لیتے ہوئے انہیںحقیقی صورتحال سے واقف کروانا چاہئے ۔ سرزمین ہند کی حفاظت کیلئے حکومت جو کچھ منصوبے رکھتی ہے ان سے ان تمام کو واقف کروایا جانا چاہئے ۔ جو قائدین بہتر اور مثبت تجاویز پیش کریں ان کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اختلاف کی شدت کے باوجود ملک کی ایک ایک انچ زمین کے تحفظ کیلئے ملک کا ہر شہری فکرمند ہے اور حکومت کو سارے ہندوستانیوں کی خواہشات کے مطابق چین ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ ملنے والی سرحدات کی حفاظت کو یقینی بنانے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔