واشنگٹن : امریکہ کے سابق وزیرخارجہ اورقومی سلامتی کے سابق مشیرہنری کسنجر نے خیال ظاہرکیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ایک اہم موڑپرآ رہی ہے اور چین کی حالیہ کوششوں کی بدولت سال کے آخر تک دونوں ملکوں میں مذاکرات کی توقع ہے۔فروری 2022ء سے جاری تنازعہ کے ابتدائی مہینوں میں یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات کے کئی ادوارہوئے تھے لیکن اس کے بعد، کوئی بھی فریق مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار نظر نہیں آیا۔سی بی ایس نیوز پراتوار کونشرہونے والے ایک انٹرویو میں آزمودہ کارمدبر سفارت کار ہنری کسنجر نے کہا کہ چین مذاکرات میں شامل ہونے کے بعد یوکرین میں جاری جنگ کارْخ موڑنے میں مدد کرے گا اورانھیں یقین ہے کہ یہ مذاکرات سال کے آخر تک اپنے عروج پر پہنچ جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ’’اب کہ چین مذاکرات میں شامل ہو گیا ہے،میرے خیال میں سال کے آخرتک بات کسی سرے پر آجائے گی اور ہم مذاکراتی عمل اور یہاں تک کہ حقیقی مذاکرات کے بارے میں بات کریں گے‘‘۔کسنجر نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اورروسی صدرولادی میرپوتن دونوں اگر انھیں فون کرتے ہیں تو وہ ان سے بات کریں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگرانھیں کسی صدر کی طرف سے کہاجاتا ہے کہ تو کیا وہ ماسکو میں صدرپوتن سے ملاقات کریں گے ؟اس کے جواب میں ریٹائرڈ سفارت کار نے کہاکہ ’’میں ایسا کرنے کیلئے تیار ہوں گا، ہاں، لیکن میں ایک مشیر ہوں گا، ایک فعال سرکاری شخصیت نہیں‘‘۔دریں اثنا،چین نے یوکرین پر روس کے حملے کاایک سال مکمل ہونے پر 12 نکاتی پوزیشن پیپر شائع کیا ہے اور اس کے ساتھ کیف اور ماسکو کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔
جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ، چینی منصوبہ روسی فوجیوں کو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے کی اجازت دے گا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی پابندی کو ختم کر دے گا۔سلامتی کونسل میں روس کوویٹوپاورحاصل ہے اور وہ اپنے خلاف کسی بھی قرارداد کو مسترد کرسکتا ہے۔