ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ پرحاضری

   

اجمیر: نیشنل کانفرنس کے قائد اور جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک روزہ دورے پر اجمیر پہنچے۔ اس دوران فاروق عبداللہ نے اجمیر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر حکومت کہتی ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہیں تو وہاں انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی فاروق عبداللہ نے ملک کی جانب سے ترکی بھیجی گئی مدد کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے بھیجی گئی امداد نے ہزاروں جانیں بچائی ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ دوسرے ممالک کے لئے مددگار رہا ہے۔فاروق عبداللہ نے بھی اجمیر میں خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ پر حاضری دی۔ انہوں نے سرکٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کی اور جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اور انتخابات کے بارے میں کھل کر بات کی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیری پنڈت ایک عرصے سے جموں و کشمیر میں واپس آنے کی بات کر رہے ہیں، لیکن وہ اب بھی جموں میں آباد ہیں اور وہیں اپنی تنخواہوں کے لئے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی انتخابات کیلئے تیار ہے لیکن جب اتحاد کی صورتحال بنے گی تو وہاں انتخابات کا بگل بجے گا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ سب کو ایک ساتھ رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتوں کو ملانے کے لیے نکالی گئی تھی۔ تمام مذاہب اور ثقافتیں الگ الگ ہیں، لیکن انہوں نے یہ سفر یہ دیکھنے کے لئے کیا کہ وہ کیسے متحد ہو سکتے ہیں اور انہیں اس کا فائدہ بھی ملے گا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک رہا ہے، جو تمام ممالک کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سارک ممالک کو ساتھ رکھ کر سب کی مدد کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہتے ہیں کہ دنیا چھوٹی ہو رہی ہے، اگر ایسا ہے تو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔