ڈاکٹر ہاجرہ ، ماںکے علاوہ کراٹے چمپئن بھی

   

طب اور اسپورٹس میں توازن برقرار رکھنے کی مثال، امریکہ اور سنگاپور میں میڈل کی امید

حیدرآباد ۔غیر معمولی ، ابھی تک کامیاب کیریئر اورکھیلوں کی دنیا میں زبردست ٹریک ریکارڈ کے ساتھ ڈاکٹر ہاجرہ حفیظ کئی ایک خواتین کیلئے ایک رول ماڈل ہیں۔دنیا میں کئی ایک ایسی خواتین ہیں جوکہ مشکل حالات کے باوجود اپنے عزائم اور کامیابیوں کے ذریعہ دوسروں کیلئے مثال بن جاتی ہیں اور ایسی ہی ایک خاتون ڈاکٹر ہاجرہ ہیں جنہوں نے اپنی کوشش ، عزائم ، غیر مساوی مواقع اور راہ میں حائل مشکل رکاوٹوں پر قابو پایا ہے ۔ اگرچہ بہت سے خواتین کھیل کے میدانوں میں آگے بڑھانا چاہتی ہیں لیکن والدہ کی ذمہ داریوں اور کھیل میں کسی ایک کو منتخب کرنے کی وجہ سے وہ ناکام ہوجاتی ہیں لیکن حیدرآبادی یہکنفو کراٹے کی ماہر خاتون کئی آراء کو غلط ثابت کیا کیونکہ وہ میدان میں ایک کراٹے چمپئین کی حیثیت سے اور میدان سے باہر ایک ذمہ دار ماں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوی نبھا رہی ہیں۔ گھریلو ذمہ داریوں کے دباؤ کے باوجود دو بچوں کیوالدہ نے بہت سی خواتین کے لئے ایک مثال قائم کی ہے جو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی خواہشمند ہوتی ہیں ہے۔ ہاجرہ نے کہا ہے کہ وہ بچپن کے دنوں سے ہی کراٹے کی شوقین تھیں لیکن افرادخاندان چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بن جائے لہذا انہیں تعلیم پر توجہ دینی پڑی ۔ وہ طب کی تعلیم کے لئے کالج کا رخ کرلیا لیکن اس دوران کزن کے انتقال کے بعد درمیان میں انہیں پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ایک سال بعد انہوں نے بی فارمیسی کا فیصلہ کیا اپنی بی فارمیسی کے دوران انہوں نے کینسر تھائرائیڈ کے معاملات کو سمجھنا شروع کیا اور پھر انہوں نے اپنی ایم فارمیسی مکمل کی ۔ علاوہ ازیں وہ ان طلباء کو بھی کوچنگ دی جو ایم بی بی ایس کرنا چاہتے ہیں۔ ایم فارمیسی دوران والدین نے ان کی شادی سعودی مقیم انجینئر سے کردی۔ اس کے بعد ان کے دو بچے کی ذمہ داری بھی آگئی لیکن انہوں نے کبھی اپنا سفر ترک نہیںکیا ۔اسپورٹس کی دنیا میں انہوں نے اپنی دلچسپی برقرار رکھی کنفوکراٹے کی مشق کے ساتھ ایشین ٹورنمنٹ جیت لیا ہے۔ دوگولڈز اور ایک سلور میڈل اپنے نام بھی کیا ۔ ہاجرہ نے سنگلزمیں گولڈ کے علاوہ ٹیم زمرے میں بھی گولڈ میڈل جیتا ہے۔ آئندہ دنوں میں وہ امریکہ سنگاپور میں ہونے والے ایونٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گی۔