ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے کلکٹریٹ پر 13 اکتوبر کو مہا دھرنا

   

سی پی آئی کا اعلان ، غریبوں کو امکنہ اراضی کی فراہمی میں حکومت ناکام
حیدرآباد: سی پی آئی نے حیدرآباد میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر میں حکومت کی ناکامی کے خلاف 13 اکتوبر کو حیدرآباد کلکٹریٹ کے روبرو مہا دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ۔ شہر کے سلم علاقوں اور غریب بستیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں بے گھر خاندانوں کو دھرنے میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور سٹی سکریٹری ای ٹی نرسمہا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن ایک ہزار مکانات بھی تعمیر نہیں کئے گئے ۔ غریبوں اور بے گھر افراد کو سی پی آئی نے 60 گز اراضی الاٹ کرنے کی مانگ کی تھی جس پر حکومت نے مکانات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اراضی امکنہ اور ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر میں ناکام ہوچکی ہے ۔ مہا دھرنا کے مقصد حکومت کو وعدہ کی تکمیل کیلئے مجبور کرنا ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت مکانات کی تعمیر کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن مرکزی اسکیم کے تحت شہر میں ایک بھی مکان الاٹ نہیں ہوا ہے۔ مرکز اور ریاست کو آپس میں ٹکراؤ کے بجائے غریبوں کو مکانات کی فراہمی کے سلسلہ میں مل کر کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سلم علاقوں کے عوام گزشتہ 6 برسوں سے ڈبل بیڈرومکان کا انتظار کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں غریبوں سے اراضی حاصل کرلی گئی لیکن وہاں مکانات کی تعمیر عمل میں نہیں آئی ۔ سٹی سکریٹری ای ٹی نرسمہا نے کہا کہ سی پی آئی کی جانب سے مکانات کی تعمیر کیلئے فاضل سرکاری اراضیات کی نشاندہی کے باوجود تعمیری کاموں کا آغاز نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے غریبوں کو مکانات کی فراہمی کے مسئلہ پر مجلس کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں مجلس کے 7 ارکان اسمبلی ہیں اور سب سے زیادہ سلم علاقے پرانے شہر میں ہیں ، لہذا مجلس کے عوامی نمائندوں کو ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے حکومت پر دباؤ بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے انہیں مکانات فراہم کرنے میں دلچسپی دکھانی چاہئے ۔