ڈبل بیڈ روم اسکیم کے درخواست گذاروں کی تنقیح میں مشکلات

   


بیشتر کا پتہ تبدیل ہونے سے نشاندہی میں رکاوٹ ، درخواست گذاروں کو پتہ درج کروانے کیلئے ہدایت پر غور
حیدرآباد۔4۔نومبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ڈبل بیڈ روم فلیٹ اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستیں داخل کرنے والے بیشتر درخواست گذار جو کرایہ کے مکانوں میں مقیم ہیں اور اپنے مکانات تبدیل کرچکے ہیں ان کا سروے اور ان کی درخواستوں کی تنقیح نہیں ہوپائی ہے جس کے سبب ان کی درخواستیں مسلسل زیر التواء ہیں ۔ڈبل بیڈ روم اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کے ادخال کے وقت جن علاقوں میں درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان علاقوںسے کئی لوگوں نے دوسرے محلہ جات میں سکونت اختیار کرلی ہے ۔ بلدی عہدیداروں نے رہائش تبدیل کرنے والے درخواست گذاروں کی درخواستوں کی تنقیح کے سلسلہ میں ہونے والی دشواریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی اسکیم پر مؤثر عمل آوری اور مستحق درخواست گذاروں کو فلیٹس کی حوالگی کے لئے تنقیح کا عمل شفاف طریقہ سے مکمل کیا جانا ضروری ہے اسی لئے درخواست گذاروں کو اپنی درخواستوں کے آن لائن مؤقف کی جانچ کے ساتھ اگر وہ پتہ تبدیل کرچکے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں اپنے علاقہ کے سرکل دفتر سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے ووٹر آئی ڈی پر نئے پتہ کا اندراج کرواتے ہوئے اپنی درخواست کی تفصیل اپ ڈیٹ کروائیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ جس وقت درخواستیں وصول کی گئی تھیں اس وقت موصول ہونے والی تمام درخواستوں کی تفصیلات جی ایچ ایم سی اور می ۔ سیوا کی جانب سے متعلقہ ضلع کلکٹرس کو روانہ کردی گئی تھیں لیکن اب جن درخواست گذاروں کی رہائش اور ان کے پتوں میں تبدیلی آئی ہے انہیں فوری طور پر اپنے قریبی بلدی سرکل سے رجوع ہوتے ہوئے اپنی درخواستوں میں پتوں کو اپ ڈیٹ کروانا چاہئے تاکہ ان سے کی جانے والی مراسلت اور تنقیح کے عمل کے دوران ان کی درخواست کو مسترد ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ ڈبل بیڈ روم اسکیم کے لئے درخواست داخل کرنے والے ایسے تمام درخواست گذار جنہوں نے اپنی رہائش تبدیل کی ہے انہیں فوری طور پر اپنی درخواستوں کو اپ ڈیٹ کرواتے ہوئے نئے پتہ کا اندراج کروانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں ممکنہ حد تک فون نمبرات پر رابطہ کرتے ہوئے درخواست گذاروں کو مطلع کرنے کے سلسلہ میں غور کررہے ہیں لیکن بیشتر فون نمبرات بھی تبدیل ہوچکے ہیں جس کے سبب ان تک رسائی نہیں ہوپا رہی ہے۔م