ملگیوں پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا قبضہ، حکومت کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی
حیدرآباد۔8۔فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے غریب بے گھر افراد کو مختص کئے گئے ڈبل بیڈروم فلیٹس مالکین کو اب ان رہائشی کامپلکس میں موجود سہولتوں سے استفادہ کے لئے رقم ادا کرنی ہوگی۔ شہر حیدرآبادکے مختلف علاقوں میںریاستی حکومت کی جانب سے تعمیر کرتے ہوئے حوالہ کئے جانے والے ڈبل بیڈروم مکانات کے ساتھ پیشرو حکومت نے ملگیوں کی تعمیر کے ذریعہ یہ منصوبہ تیار کیا تھا ان ملگیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی صفائی اور مینٹینس کے کاموں کو انجام دیا جائے گا اور ابتدائی طور پر پیشرو حکومت نے لفٹ آپریٹر کے علاوہ دیگر امور کے لئے پیشگی ادائیگی کردی تھی لیکن اب جبکہ لفٹس کا معاہدہ ختم ہونے جا رہا ہے تو فلیٹس مالکین پر دباؤ ڈالا جا رہاہے کہ لفٹس کے استعمال کے لئے وہ سالانہ 6000 روپئے کی ادائیگی کریں تاکہ ان عمارتوں میں جو کہ Dignity Housing کے طور پر تعمیر کئے گئے تھے ان میں موجود بنیادی سہولتوں کے استعمال کو یقینی بنایاجاسکے۔ حکومت تلنگانہ نے شہر کے نواحی علاقوں کے علاوہ شہر حیدرآباد کے کئی محلہ جات میں سلم آبادیوں کو برخواست کرتے ہوئے ان کی جگہ ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر کے عمل کو مکمل کیا ہے اور ان فلیٹس کو مستحقین کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور بیشتر عمارتیں اب مکمل طور پر آباد بھی ہوچکی ہیں لیکن ان ڈبل بیڈروم عمارتوں میں اب لفٹ کے لئے ادائیگی کا دباؤ ڈالا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ مقامی طور پر بااثر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکن ان ہمہ منزلہ عمارتوں میں مقیم غریب افراد کو اس بات کے لئے مجبور کرر ہے ہیں کہ وہ اگر لفٹ کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو سالانہ 6000 روپئے ادا کرنے کا معاہدہ کریں اس کے علاوہ صفائی کو یقینی بنائے رکھنے کے نام پر مینٹیننس کی رقم بھی ادا کریں ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی فراہمی کے لئے تعمیر کی گئی عمارتوں کی ذیلی منزل پر حکومت نے تجارتی ملگیاں تعمیر کرتے ہوئے انہیں کرایہ پر دینے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعہ ان عمارتوں کے مینٹیننس کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس کے متعلق کہا جارہاہے کہ ان میں بیشتر ملگیوں پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا قبضہ ہوچکا ہے اور وہ فلیٹ مالکین کو لفٹ کے استعمال کے علاوہ مینٹیننس کے لئے رقم ادا کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں جو کہ حکومت کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔3