ڈرینیج کے پانی کا مسئلہ حل کرنے حیرت انگیز ڈیوائس کی تیاری

   

عثمانیہ یونیورسٹی انجینئرنگ طلبا کا کارنامہ ۔ ورکرز کو سہولت ممکن
حیدرآباد 25 فروری ( سیاست نیوز ) : شہر میں ڈرینج کے پانی کا مسئلہ ہے جو تقریبا ہر محلہ میں عوام کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے ۔ صفائی کرمچاری مسلسل اس کی نشاندہی کرکے صفائی کاموں کو انجام دے رہے ہیں ۔ مین ہول میں اتر کر صفائی کرنے کی وجہ سے زہریلی گیس سے متاثر ہو کر کئی ورکرز بیمار ہوچکے ہیں اور بعض کی موت بھی ہوتی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے انجینئرنگ طلباء نے ایک حیرت انگیز ڈیوائس تیار کیا ہے جو ان تمام مسائل کو حل کرسکتا ہے ۔ انٹرنیٹ آف تھنگز کی بنیاد پر کام کرنے والی یہ ڈیوائس مین ہول میں انسٹال کرکے حکام کے واٹس اپ نمبرس سے منسلک کریں گے جب سیوریج کی سطح 22 سنٹی میٹر تک پہنچ جائے گی تو متعلقہ نمبروں کو الرٹ وصول ہوگا ۔ اگر یہ 28 سنٹی میٹر سے زیادہ ہوگا تو ایک انتباہ جاری کریگا کہ سیوریج اوور فلو ہونے والا ہے ۔ ان وارننگس کی بنیاد پر متعلقہ حکام قبل از وقت اقدامات کرسکتے ہیں اور نکاسی کو روک سکتے ہیں ۔ پیشگی خبردار کرنے والے آلہ زہریلی گیسوں کے بارے میں الرٹ جاری کرنے پر ورکرز احتیاطی تدابیر اختیار کرکے صفائی کام انجام دے سکتے ہیں جس سے ورکرز کی جانیں بچائی جاسکتی ہے ۔ اس ڈیوائس کو عثمانیہ یونیورسٹی سیول انجینئرنگ پروفیسر ششی کانت کی رہنمائی میں ماہرین تعلیم نے ڈیزائن کیا ۔۔ ش