خرد کا نام جنوں پڑگیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
جس وقت سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے جنگ مسلط کی ہے اس وقت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے موقف میں وقفہ وقفہ سے تبدیلی آنے لگی ہے ۔ ٹرمپ کو جنگ کے ابتداء ہی میں یہ احساس ہونے لگا تھا کہ انہوں نے اس جنگ کی طوالت کے تعلق سے غلط اندازہ قائم کیا تھا ۔ اس معاملے میں اسرائیل نے ٹرمپ کو گمراہ کیا تھا اور یہ تیقن دیا تھا کہ ایران دو چار دن سے زائد جنگ کو جھیل نہیں پائے گا اور امریکہ اور اسرائیل کی کامیابی یقینی ہوگی۔ ایران میں سپریم رہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران میں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا اور امریکہ اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ۔ اسرائیل نے امریکہ کو اس معاملے میںہتھیلی میں جنت دکھائی تھی اور ٹرمپ اس معاملے میں نتن یاہو کے جھانسہ میں پھنس گئے تھے ۔ جس طرح کا اندازہ تھا کہ ایران اس جنگ کو دو دن بھی جھیل نہیں پائے گا تاہم اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ جنگ کو برقرار رکھنا خود امریکہ اور اسرائیل کیلئے مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ کروڑوں ڈالرس کے اخراجات اب خود امریکہ اور اسرائیل کے بس کے باہر ہونے لگے ہیں اور کئی بلین ڈالرس فراہم کرنے کا پنٹگان کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ ایران نے انتہائی کم خرچ والے ڈرونس استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو مالی مشکلات کا شکار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب اس جنگ سے فرار کے بہانے اور راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں خود اپنے بیانات میںتضاد کا بھی اندازہ نہیں ہو رہا ہے ۔ امریکہ میں داخلی طور پر عوام کی مخالفت بھی ان کے ذہن پر اثر انداز ہونے لگی ہے ۔ آبنائے ہرمز کے تعلق سے ٹرمپ کے بیانات ان کے ذہنی ہیجان کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے تعلق سے ٹرمپ نے جو بیانات دئے ہیں وہ ان کے موقف میں باربار تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا ہر بیان ان کے پہلے بیان سے مختلف ہی دکھائی دے رہا ہے اور الجھن پیدا کر رہا ہے ۔
ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کے بعد ناٹو کے ممالک سے اس راستے کو بحال کرنے میں مدد کی اپیل کی تھی ۔ بحری جہاز روانہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔ ان کی اس اپیل پر یوروپی ممالک کا انتہائی سرد مہری والا رد عمل رہا اور کچھ ممالک نے تو باضابطہ انکار بھی کردیا تھا جس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو بحال کرنے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز روانہ کرنے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس پر بھی ایران کے موقف میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی اور ٹرمپ کو خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایران نے خود آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھادینے کا انتباہ بھی جاری کردیا تھا ۔ اب ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی ذمہ داری سنبھالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان بیانات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جنگ کی صورتحال ٹرمپ کے قابو میں نہیں رہ گئی ہے اور وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں خود اس پر قائم نہیں رہ پا رہے ہیں۔ ان کے موقف اور بیانات میں ہرگذرتے وقت کے ساتھ تبدیلی آنے لگی ہے اور وہ خود اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے متضاد بیانات جاری کر رہے ہیں۔ جنگ اگر مزید طوالت اختیار کرجاتی ہے تو ٹرمپ کے اس طرح کے بیانات مزید سامنے آسکتے ہیں اور خود ٹرمپ کا مذاق بننا بھی ممکن دکھائی دے رہا ہے ۔
جو جنگ کسی جائز اور واجبی وجہ کے بغیر اور بغیر کسی منصوبہ کے شروع کی گئی ہے اب اس کا خاتمہ اور اختتام ٹرمپ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہرگز دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ یہ تاثر واضح ہونے لگا ہے کہ ایران اب اس جنگ کو اپنے انداز سے موڑنے میں کامیاب رہا ہے اور وہ اپنی حکمت عملی سے دنیا بھر پر اثرانداز ہونے لگا ہے ۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا دعوی کرتے ہوئے حملوں کو پانچ دن روکنے کی بات کہی تھی تاہم ایران نے چند منٹ کے اندر تردید کردی کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ اس طرح ٹرمپ اپنے بیانات کی وجہ سے مذاق کا موضوع بننے لگے ہیں اور کوئی ان کے بیانات کو سنجیدگی سے لینے تیار نہیں ہے ۔