نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی معاہدہ کے دوسرے مرحلہ کے طور پر غزہ کے امن بورڈ کا اعلان کردیا ۔ اس کے پہلے چارٹرک ی بھی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ غزہ کا امن بورڈ بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اس امن بورڈ کی مستقل رکنیت کیلئے ایک بلین ڈالرس کا عطیہ طئے کیا گیا تھا ۔ یہ بورڈ در اصل ابتداء میں غزہ میں حکمرانی اور اس کی تعمیر جدید کی ذمہد اری کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا تاہم اب اسے عالمی تنازعات حل کرنے کیلئے بھی توسیع دی گئی ہے ۔ اس توسیع سے قطر نظر اس کے قیام کا جو اصل مقصد ہے اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ غزہ کی تعمیر جدید اورا س سے پہلے اسرائیل کے ظالمانہ تحدیدات اور پابندیوںکو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے عام اور نہتے و بے گناہ فلسطینیوں کا عرصہ حیات جو تنگ کیا جاچکا ہے اسے ختم کیا جاسکے ۔ غزہ کے عوام اور سارے فلسطینی باشندے پرسکون زندگی کی طرف واپس آّسکیں اور انہیں بھی دنیا کے دوسرے لوگوں کی طرح دو وقت کی روٹی کیلئے قطار میں کھڑے ہونے اور مارے جانے کے اندیشے لاحق نہ ہونے پائیں۔ جو امن بورڈ قائم کیا گیا ہے اس میں خود اسرائیل کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل کی شمولیت سے گریز کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ یہ اندیشے لاحق ہوگئے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں سہولیات اور انسانی بنیادوں پر امن کی فراہمی کے علاوہ غزہ کی تعمیر جدید کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے گا ۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی نوآبادیات کی تعمیر کے منصوبوںکو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا ۔ تاہم اب جبکہ اس امن بورڈ میں اسرائیل کو شامل کرلیا گیا ہے تو دوسرے ممالک جو رکن بنے ہیں ان کی اور خاص طور پر امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ اس بورڈ کو اس کے قیام کے مقصد سے بھٹکنے کی اجازت نہ دی جائے اور ساری توجہ غزہ کی تعمیر جدید اور فلسطینیوں کیلئے سہولیات کی فراہمی پر خاص توجہ دی جائے ۔ اگر غزہ سے توجہ ہٹا کر دوسرے مسائل کی جانب اس کی توجہ مبذول کی جاتی ہے تو اس کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا اور اصل مسئلہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا ۔
کہنے کو تو اسرائیل ۔ فلسطین جنگ ختم ہوچکی ہے اور اب مختلف طریقوں سے حماس کو غیرمسلح کرنے پر بھی توجہ دے کر اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جب چاہے غزہ میں اور مغربی کنارے میں حملے کئے جا رہے ہیں۔ فلسطینیوںکو قتل کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سے فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ کو فوری طور پر روکا جائے ۔ جو بورڈ قائم ہوا ہے اور اس میںشامل جو کچھ بھی ارکان ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کو امن معاہدہ کا پابند بنایا جائے ۔ اسرائیل پر لگام کسی جائے ۔ اسرائیل کی روایت ہے کہ وہ اپنے امور میں کسی کی بھی مداخلت کو برداشت نہیںکرتا اور خاطر میں نہیں لاتا ۔ اگر اسرائیل کو اس معاہدہ کا پابند بنانے کیلئے دباؤ بنانا ضروری ہوجائے تودباؤ بھی بنایا جانا چاہئے اور اگر کچھ تحدیدات عائد کرنی پڑ جائیں تو ان سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اسرائیل جب تک اپنے حملے بند نہیں کرے گا اس وقت تک حالات معمول پر آنے مشکل ہیں۔ اس کے علاوہ اولین توجہ کے ساتھ غزہ میں اور دیگر مقامات پر انسانی بنیادوں پر امداد کو بلا رکاوٹ پہونچنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ بورڈ کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اسرائیل انسانی بنیادوں پر امداد کی راہ میں رکاوٹ بننے نہ پائے ۔ غزہ کے عوام کو معمول کی زندگی فراہم کرنا ضروری ہے ۔ انہیں غذا اور دوا ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جانی چاہئے ۔ دواخانوں اور تعلیمی اداروںکو بحال کیا جانا چاہئے ۔
غزہ کو جس طرح زندہ افراد کا قبرستان بنادیا گیا ہے اور فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا ہے ان کی نسل کشی کی گئی ہے اس کے بعد تعمیر جدید پر خاص توجہ کی اور بین الااقوامی امداد کی ضرورت ہے ۔ اس پر بھی بورڈ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جب تک بنیادی سطح سے تعمیر جدید کا کام شروع نہیں ہوگا اس کو بہتر ڈھنگ سے آگے نہیں بڑھایا جاسکے گا ۔ بورڈ کو سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری غزہ کو ہی پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کے دیگر مسائل پر توجہ کرنے کیلئے دوسرے ادارے موجود ہیں۔ ان پر مابعد توجہ دی جاسکتی ہے ۔ جس مقصد کیلئے بورڈ قائم کیا گیا ہے اس کو پورا کرنا سب کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔