ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق
پھر آگئے وہیں پہ جہاں سے چلے تھے ہم
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دنیا بھر میں اس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں جن کی وجہ سے خودا ن کی مقبولیت کا گراف گھٹنے لگا ہے ۔ دنیا بھر میں اپنے فیصلوںکے ذریعہ اتھل پتھل مچانے والے ٹرمپ کی مقبولیت اب اپنے ہی ملک میں بھی گھٹنے لگے ہی ۔ ویسے بھی دنیا بھر میں ٹرمپ اپنی عوامی مقبولیت سے محروم ہی ہو رہے تھے اور ان کے تعلق سے ناپسندیدگی کے جذبات میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ ان کے حالیہ فیصلوںاور اقدامات کی وجہ سے وہ اپنی مقبولیت کھوتے جا رہے تھے ۔ اب ایک تازہ سروے سامنے آیا ہے جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ خود امریکہ میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف گھٹ گیا ہے ۔ امریکی عوام کی اکثریت انہیں پسند نہیں کر رہی ہے اور ان کی پالیسیوں اور فیصلوں پر ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے ۔ اے بی سی نیوز کی جانب سے یہ سروے کیا گیا تھا جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افراط زر ‘ شرحوں اور خارجہ تعلقات کے مسئلہ پر امریکی عوام کی اکثریت مطمئن نہیں ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ شرحوں کے مسئلہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں نراج اور بدامنی جیسی کیفیت پیدا کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے اقدامات کی وجہ سے عالمی سطح پر معاشی استحکام متاثر ہو رہا ہے ۔ کئی ممال کی معیشتیں اتھل پتھل کا شکار ہوگئی ہیں ۔ سروے کی خاص بات یہ بھی رہی کہ بنیادی اور ضروری مسائل پر بھی عوام نے کھل کر اظہار کیا ہے ۔ امریکی عوام نے مہنگائی ‘ روزگار اور دیگر مسائل پر بھی اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ بنیادی مسائل کو حل کرنے اور امریکی عوام کیلئے حالات کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں اور وہ محض شرحوں کو استعمال کرتے ہوئے اتھل پتھل پیدا کرنے کی وجہ بن رہے ہیں۔ افراط زر اور مہنگائی کے مسئلہ پر ہر تین میں دو امریکی شہری ٹرمپ سے ناراض ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات کو موثر ڈھنگ سے بہتر بنایا جاسکتا تھا تاہم اس میں ٹمرپ کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور ان کے اقدامات کی وجہ سے امریکی عوام کی زندگیوںپر کوئی بہتر اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں وہ مسائل ہی کا شکار ہیں۔
خاص بات یہ رہی کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کو دھمکانے یا خوفزدہ کرنے کیلئے شرحوں کا جو مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے اور من مانی انداز میں شرحیں عائد کی جا رہی تھیں ان پر بھی امریکی عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے بھی ٹرمپ کی شرحوں کو مسترد کردیا گیا تھا اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ شرحیں عائد کرنے کے تعلق سے اختیارات صرف امریکی کانگریس کو حاصل ہیں اور ٹرمپ من مانی انداز میں اس طرح کے فیصلے نہیں کرسکتے ۔ یہی خیال امریکی عوام نے بھی اس سروے میں ظاہر کردیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی عوام خارجی امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ حکومت کس کی ہے تاہم وہ اصول کی بات ضرور کرتے ہیں اور اس کی تائید بھی کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے کئی ممالک پر شرحیں عائد کرتے ہوئے اپنی اجارہ داری مسلط کرنے اور اپنے فیصلے منوانے کی کوشش کی ہے ۔ کئی ممالک نے شرحوں کے معاملے میں امریکی دباؤ کو قبول بھی کرلیا ہے اور کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے امریکی بلکہ ٹرمپ کی شرائط پر تجارتی معاہدات سے بھی اتفاق کرلیا ہے ۔ تاہم خود امریکہ میں اب یہ صورتحال تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے ۔ ملک کی سپریم کورٹ نے حکومت پر روک لگائی تو عوام نے بھی حکومت کے خلاف رائے کا اظہار کیا ہے ۔ یہ رائے اہمیت کی حامل کہی جاسکتی ہے ۔
صدر ٹرمپ چونکہ اپنی دوسری معیاد میں ہیں اور وہ یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ امریکی دستور اور قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک اور معیاد کیلئے صدارتی مقابلہ بھی کرسکتے ہیں ایسے میں امریکی عوام کی رائے اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے ۔ انتخابات میں عوام کے ووٹ اور عوام کی رائے کے ذریعہ ہی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے اور اب جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف خود امریکہ میں گرنے لگا ہے اور تقریبا 60 فیصد امریکی ٹرمپ کی پالیسیوں اور فیصلوں کی مخالفت کرنے لگے ہیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے ۔ اسے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہئے اور محض ہلچل پیدا کرنے والے فیصلوں سے گریز کرتے ہوئے مستقل مزاجی سے کام کرنا چاہئے ۔