بی آر ایس کو مزید جھٹکے لگنے کا امکان، تقریباً 20 کارپوریٹرس کانگریس سے رابطہ میں
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں تقریباً 20 بی آر ایس کے کارپوریٹرس کانگریس سے رابطے میں ہیں اور کانگریس میں شامل ہونے کیلئے سرگرم مشاورت کر رہے ہیں ۔ ڈپٹی میئر سری لتا شوبھن ریڈی نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو بہت بڑا جھٹکا دیا ہے ۔ اس طرح لوک سبھا انتخابات سے قبل بی آر ایس کو پھر ایک مرتبہ سیاسی جھٹکے لگتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند دن قبل بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے تلنگانہ بھون میں بی آر ایس کارپوریٹرس کا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں سمجھانے منانے کی کوشش کی ہے ۔ ملاقات کیلئے ہمیشہ دستیاب رہنے کا تیقن دیتے ہوئے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کیلئے متحد رہنے کا مشورہ دیا تھا ۔ باوجود اس کے بی آر ایس کے کارپوریٹرس ایک کے بعد دیگر کانگریس میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پہلے سابق ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین کانگریس میں شامل ہوگئے اس کے بعد سابق میئر بی رام موہن نے بھی چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہوگئے ۔ آج ڈپٹی میئر سری لتا اپنے شوہر کے ساتھ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر ملاقات کی جس کے بعد قیاس آرائیاں گشت کر رہی ہے کہ وہ بھی بہت جلد کانگریس میں شامل ہوجائیں گی ۔ ان کے شوہر بی آر ایس لیبر کمیٹی کے صدر ہیں ۔ میاں بیوی چند دنوں سے بی آر ایس قیادت سے ناراض ہیں اور پارٹی تبدیل کرنے کا من بنالیا ہے ۔ کانگریس کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس طرح بی آر ایس کے تقریباً 20 کارپوریٹرس کانگریس سے رابطہ میں ہیں اور وہ بہت جلد کانگریس میں شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد میں اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا ایک بھی رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا ہے ۔ اس لئے کانگریس پارٹی بھی ناراض بی آر ایس کارپوریٹرس سے رابطے میں ہے ۔ 2