چیف منسٹر یدی یورپا فون پر نہیں آئے ۔ باغیوں کا ویڈیو پیام میں ملاقات سے انکار ۔ مدھیہ پردیش کے لیڈر کا میٹنگ تک توقف کرنیکا فیصلہ
بنگلورو ، 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کے باغی کانگریس ایم ایل ایز جو یہاں کی تفریح گاہ میں مقیم ہیں، آج انھوں نے کہا کہ وہ اس شہر کو اپنی مرضی سے آئے ہیں اور کسی سے بھی ملاقات کرنا نہیں چاہتے، جبکہ سینئر پارٹی لیڈر ڈگ وجئے سنگھ اُن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آج صبح ریزارٹ کے قریب کافی ڈرامہ دیکھنے میں آیا جب دو مرتبہ کے چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈگ وجئے نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کو لیجسلیٹرز سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اس پر انھیں کچھ دیر کیلئے محروس کیا گیا اور بعد میں رہا کردیا گیا۔ ڈگ وجئے اور ان کے ہمراہ کرناٹک کانگریس کے سربراہ ڈی کے شیوکمار پولیس کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کررہے ہیں تاکہ انھیں ایم ایل ایز سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔ انھوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف منسٹر کرناٹک بی ایس یدی یورپا پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ لیجسلیٹرز کے ساتھ ربط قائم کرنے کیلئے ان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کوشاں ہیں۔ باغی کانگریس ایم ایل اے (حلقہ سوماوالی) اے سنگھ کنسانا نے ایک ویڈیو پیام میں کہا: ’’ہم ہماری اپنی مرضی سے یہاں رضاکارانہ طور پر آئے ہیں؛ ہمیں بعض لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ مدھیہ پردیش سے چند قائدین بشمول ڈگ وجئے سنگھ اور بعض ایم ایل ایز یہاں آئے ہیں۔ ہم کسی سے بھی بات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ ایک سال ہر کسی سے بات کرنے کی معقول کوشش کرلی، وہ ایک سال تک ہماری کچھ نہیں سنے، وہ ایک دن میں ہماری کیا بات سن لیں گے؟ ہم بس یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ہم یہاں ہماری اپنی مرضی سے آئے ہیں اور ہماری مرضی سے واپس جائیں گے۔‘‘ ایک اور باغی ایم ایل اے گوئند سنگھ راجپوت نے بھی ویڈیو پیام میں کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر آئے اور کسی سے بھی ملاقات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ڈگ وجئے سنگھ چند وزراء اور قائدین کے ساتھ آئے ہیں۔ غیرضروری طور پر وہ گیٹ پر اصرار کررہے ہیں کہ ہم سے ملاقات کریں گے۔ جب کوئی ایم ایل اے اُن سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا ہے تو انھیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ تمام ایم ایل ایز اپنے استعفے بھیج چکے ہیں۔‘‘ موجودہ طور پر 22 باغی ایم ایل ایز شہر میں مقیم بتائے جاتے ہیں۔ ڈگ وجئے نے کہا کہ وہ ارکان اسمبلی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا چناؤ کیلئے اُن کے ’’ووٹرز‘‘ ہیں، اور اُن سے ملاقات تک وہ یہیں توقف کریں گے۔ سٹی پولیس کمشنر سے ملاقات کرنے سے قبل ڈگ وجئے نے کہا: ’’مجھے (کمشنر کی طرف سے کوئی مدد ملنے کے تعلق سے) شبہات ہیں کیونکہ مرکزی وزیر داخلہ اور چیف منسٹر کا اُن پر دباؤ ہے؛ وہ ایم ایل ایز سے ملاقات کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ اگر ایم ایل ایز مجھ سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ میرے ساتھ باہر آجائیں گے۔‘‘ شیوکمار نے دعویٰ کیا کہ ڈگ وجئے شہر کو اس لئے آئے ہیں کیونکہ انھیں چند باغی ایم ایل ایز سے پیام ملا ہے۔ شیو کمار نے استفسار کیا کہ پولیس کیوں رکاوٹ پیدا کررہی ہے، انھیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، وہ ایک امیدوار کے حق کو روک رہے ہیں۔ ’’ہمارے امیدوار (ڈگ وجئے) اعلیٰ حکام (پولیس کمشنر) سے درخواست کررہے ہیں، کیونکہ یہ لوگ (مقامی پولیس) یہاں چیف منسٹر کی ہدایات پر کام کررہے ہیں، اس لئے وہ اعلیٰ حکام سے درخواست کرنا چاہتے ہیں، پھر ہم دیگر امکانی صورتوں پر غور کریں گے۔ شیوکمار نے الزام عائد کیا کہ یدی یورپا نے ڈگ وجئے کے فون کال کا خیرسگالانہ جواب دینے کی تک زحمت نہیں کی۔’’انھوں (ڈگ وجئے) نے چیف منسٹر سے درخواست کرنی چاہی؛ چیف منسٹر فون پر نہیں آئے۔ سینئر لیڈر کے فون کال پر محض خیرسگالی کا مظاہرہ تک نہیں کیا گیا۔‘‘
