ڈگ وجئے سنگھ کے ریمارکس

   

Ferty9 Clinic

اپنی تدبیر کی خامی پہ مَیں سر دھنتا ہوں
حالِ بد پر کوئی موقف نہیں فی الحال مرا
سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ اکثر و بیشتر آر ایس ایس کے خلاف اپنے سخت تبصروں اور ریمارکس کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ کانگریس کی صفوں میں ڈگ وجئے سنگھ ایسے لیڈر رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اور کھل کر آر ایس ایس پر تنقیدیں کی ہیں۔ آر ایس ایس کے خلاف انہوں نے مہم بھی چلائی تھی ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے ریمارکس اور تبصروں پر بسا اوقات بہت زیادہ رد عمل کا اظہار بھی کیا گیا تھا ۔ اب بھی ڈگ وجئے سنگھ کے آر ایس ایس کے تعلق سے تبصرے پر ایک سیاسی ڈرامہ تیار کرنے کی بی جے پی کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس بار آر ایس ایس کے مخالف تبصرے کیلئے نہیں بلکہ آر ایس ایس کی تنظیمی طاقت کی ستائش کرنے پر یہ ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کی جانب سے اتنا زیادہ رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا جتنا بی جے پی اس کو اچھال کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے منصوبوں پر عمل کرنے لگی ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ایک تصویر سوشیل میڈیا پر شئیر کی جس میں موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کے ساتھ بیٹھا دکھایا گیا ہے ۔ اس پر ڈگ وجئے سنگھ نے ریمارک تحریر کیا کہ سنگھ پریوار کی تنظیمی طاقت اور کیڈر کی جدوجہد سے سنگھ کے قائدین چیف منسٹر اور وزیر اعظم کے عہدوں تک پہونچ گئے ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے چند دن قبل کانگریس میں تنظیمی کمزوری کا بھی اظہار کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ پارٹی میں اختیارات کو غیر مرکوز کیا جانا چاہئے ۔ بظاہر ڈگ وجئے سنگھ کے ان تبصروں اور ریمارکس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مخالف پارٹی خیالات کا پتہ چلتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ڈگ وجئے سنگھ نے پارٹی کو مستحکم کرنے کی سمت توجہ دلانے کی کوشش کی ہے ۔ اس پر بی جے پی نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی مہم شروع کردی ہے ۔ کانگریس پارٹی کی صفوں میں بھی حالانکہ ڈگ وجئے سنگھ کے پوسٹ اور تبصروں پر رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن اس میں کوئی شدت نہیں ہے تاہم بی جے پی اس کو اپنے سیاسی مفاد کیلئے زیادہ اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے اور کانگریس میں داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
یہ درست ہے کہ کانگریس پارٹی میں جو داخلی مسائل ہیں ان کو پارٹی کے اندرونی فورمس میں پیش کیا جانا چاہئے ۔ پارٹی کے قائدین کو اپنے خیالات سے واقف کروایا جانا چاہئے ۔ اپنی رائے پیش کی جانی چاہئے ۔ میڈیا میں اس طرح کے تبصروں سے گریز کرنے کا پارٹی کی جانب سے ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے ۔ تاہم ڈگ وجئے سنگھ نے جو تصویر پیش کی ہے اور تنظیمی طاقت کا جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ اہمیت کا حامل ضرور ہے ۔ کانگریس کی تنظیمی حالت مستحکم نہیں کہی جاسکتی اور اسے مستحکم کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس کی تنظمی حالت کو سدھارنے کیلئے ڈگ وجئے سنگھ نے آر ایس ایس کی تنظیمی طاقت کا جو تذکرہ کیا ہے وہ شائد نامناسب کہا جاسکتا ہے تاہم اس میں کسی طرح کی منفی ذہنیت کوتلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ بظاہر کانگریس نے ایسا کیا بھی نہیں ہے تاہم بی جے پی کی جانب صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے اسے سیاسی ڈرامہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے نت نئے انداز سے تبصرے کرتے ہوئے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ڈگ وجئے سنگھ نے کانگریس کی قیادت کے خلاف اور پارٹی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے اور کھلے طور پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے تبصروں اور ریمارکس کو بغاوت یا ناراضگی کا نام نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پارٹی کے استحکام اور اس کے مستقبل کے تعلق سے ان کی فکر تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ ریمارکس کئے ہیں۔
ڈگ وجئے سنگھ نے ڈرامہ پیدا کرنے کی کوشش کے دوران ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ دستور کو نہیں مانتے ۔ اس وضاحت کے باوجود بھی سارے مسئلہ کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کے منصوبوں کو گودی میڈیا کی جانب سے بھی آگے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے تو اس نے انتہائی مدبرانہ موقف اختیار کیا ہوا ہے اوربی جے پی یا میڈیا کی جانب سے اشتعال دلانے کی کوششوں کا شکار نہیں ہو رہی ہے ۔ یہی پارٹی کے حق میں بہتر بھی ہے ۔