ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف ( سی ڈی ایس ) ‘ ان کی اہلیہ اور کچھ دوسرے افراد کو لیجانے والا ایک ہیلی کاپٹر آج حادثہ کا شکار ہوگیا جس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت 13 افراد ہلاک ہوگئے ۔ ماہرین کی رائے کے مطابق آج اس ہیلی کاپٹر نے جس مقام سے اڑان بھری تھی اور جہاں تک اسے جانا تھا اس سفر میں کوئی مسئلہ یا پیچیدگی نہیں تھی تاہم اچانک ہی یہ حادثہ کا شکار ہوگیا ۔ حالانکہ اس حادثہ کی تحقیقات کا اعلان کردیا گیا ہے لیکن اس حادثہ میں بہت بھاری نقصان ہوا ہے ۔ ملک کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف سمیت کچھ اور عہدیدار بھی مارے گئے ہیں حالانکہ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ جس ہیلی کاپٹر سے جنرل بپن راوت نے اڑان بھری تھی وہ انتہائی بھروسہ مند اور محفوظ ہیلی کاپٹرس میں شمار کیا جاتا ہے ۔ جو ہیلی کاپٹر استعمال کیا گیا تھا وہ Mi-17V-5 تھا جسے روس سے خریدا گیا تھا ۔ اعلی فوجی عہدیداروں کیلئے انتہائی محفوظ اور بہتر ہیلی کاپٹرس استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے اور قابل تشویش بھی ہے ۔ اس طرح کے واقعات کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے حادثہ کی اصل وجہ کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی انتہائی اہمیت کی حامل اور ذمہ دار دفاعی شخصیتیں اس طرح کے ہیلی کاپٹرس استعمال کرتی ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داریوں اور فرائض میں شامل ہے کہ وہ ایک سے دوسرے مقام تک سفر کرتے ہوئے تمام تر حالات سے واقفیت حاصل کرتے رہیں۔ ایسے میں ان کا سفر انتہائی محفوظ اور باحفاظت ہونا چاہئے ۔ اس طرح کے حادثات ہماری مسلح افواج کیلئے اچھی بات نہیں ہوسکتے اور اس سے ملک کے عوام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ہماری مسلح افواج ملک کے عوام کی حفاطت کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور اگر انہیں حادثات پیش آتے ہیں اور جانوں کا اتلاف ہوتا ہے تو یہ انتہائی افسوس کی بات ہوتی ہے اور اس سے بچنے کیلئے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ روکنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور حادثہ کی وجوہات کا پتہ چلایا جانا بھی اہم ہوتا ہے ۔
Mi-17V-5ہیلی کاپٹرس دو انجن والے ہوتے ہیں اور انہیں روس سے حاصل کیا گیا ہے ۔ ان ہیلی کاپٹرس کی بھاری تعداد کو 2013 سے 2018 کے درمیان روس سے حاصل کرتے ہوئے ہمارے فضائیہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ ان ہیلی کاپٹرس کو بلندی میں اڑانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ انہیں انتہائی عصری فوجی ٹرانسپورٹ کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی بھی طرح کے موسم میں یہ ہیلی کاپٹرس استعمال کئے جاسکتے ہیں اور یہ موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے کئی ماہرین نے بھی ان ہیلی کاپٹرس کو انتہائی قابل بھروسہ ‘ محفوظ اور مستحکم قرار دیا ہے اس کے باوجود اس طرح کا حادثہ ہونا دفاعی شعبہ کیلئے اچھی بات نہیں ہے ۔ یہ قابل تشویش بات ہے کیونکہ یہی ہیلی کاپٹرس نہ صرف شعبہ دفاع سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیتوں کو بلکہ ملک کے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان ہیلی کاپٹرس کو نہ صرف عہدیداروں اور اہم ترین شخصیتوں کو منتقل کرنے کیلئے بلکہ سامان کی منتقلی کیلئے اور آلات وغیرہ کی منتقلی کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔دفاع کے شعبہ میں ان ہیلی کاپٹرس کی انتہائی اہمیت ہوتی ہے اور اس اہمیت کے اعتبار سے ان کا محفوظ ہونا بہت ضروری ہے ۔آج کے حادثہ میں ہم نے ہمارے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور دوسرے عہدیداروں کو بھی کھودیا ہے اور یہ نقصان چھوٹا نہیں ہے ۔ ہم اس طرح کے نقصانات کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھی جانی چاہئے ۔
آج سارا ملک افسوس کا اظہار کر رہا ہے ۔ صدر جمہوریہ ‘ نائب صدر جمہوریہ ‘ وزیر اعظم اور ملک کے متعدد سیاسی قائدین نے اس حادثہ اور جنرل راوت کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات اور اتنی اہم شخصیتوں کے جانی نقصانات کو روکنے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ جو ہیلی کاپٹرس وغیرہ استعمال کئے جا رہے ہیں ان کے محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ اعلی عہدیداروں اور اہم شخصیتوں کی حفاظت کے اہل ہونا چاہئے ۔ اس طرح کے واقعات کے اعادہ کو کسی بھی قیمت پر روکنے کیلئے اقدامات کرنے سے حکومت کو گریز نہیں کرنا چاہئے ۔
