اندرا پارک پر ڈی ایس سی امیدواروں کا احتجاجی دھرنا
حیدرآباد ۔7۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کی جانب سے اردو میڈیم ڈی ایس سی امیدواروں سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اندرا پارک پر دھرنا منظم کیا گیا ۔ کانگریس حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈی ایس سی نوٹیفکیشن میں ترمیم کرتے ہوئے 11062 جائیدادوں کو نوٹیفائی کیا تھا جن میں اردو میڈیم کی 1183 جائیدادیں شامل ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے 9 اکتوبر کو منتخب امیدواروں کو تقررات کے احکامات حوالے کئے جائیں گے ، اس وقت امکان ہے کہ صرف 550 امیدواروں کو احکامات دیئے جائیں گے جبکہ باقی 600 جائیدادیں بیک لاگ رہ جائیں گی۔ اردو میڈیم میں ہر ڈی ایس سی میں بعض نشستیں محفوظ زمروں کے تحت ہوتی ہیں جس کے لئے امیدوار دستیاب نہیں ہوتے۔ ڈی ایس سی 2017 میں اردو میڈیم کی 900 جائیدادوں کو صرف 365 پر تقررات کئے گئے تھے اور 535 جائیدادیں بیک لاگ رہ گئیں کیونکہ محفوظ زمروں میں امیدوار دستیاب نہیں ہے۔ حکومت بیک لاگ جائیدادوں کو کیری فارورڈ کرتے ہوئے تمام مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرسکتی ہے۔ ڈی ایس سی 2023 میں اردو میڈیم کی جائیدادوں کو بیک لاگ زمرہ میں رکھنے کے خلاف دھرنا منظم کیا گیا ۔ امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ تین ڈی ایس سی میں جو پوسٹ کیری فارورڈ کئے جارہے ہیں، ان کو عام زمرہ میں تبدیل کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر تقررات کئے جائیں۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق حکومت یہ قدم اٹھاسکتی ہے ۔ ہر ڈی ایس سی میں تقریباً 50 فیصد اردو میڈیم پوسٹ کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں اردو میڈیم اسکولس پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جنرل سکریٹری ایس آئی او محمد فراز احمد کے علاوہ مصعب عبدالرحمن ، فیصل خاں، صبا فاطمہ اور دوسروں نے مخاطب کیا۔ 1