ڈی اے وی اسکول کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے پر والدین پریشان

   

دوسرے اسکولس میں داخلہ سے تعلیم پر اثر ہونے کا امکان ۔ فیصلے پر نظرثانی کی اپیل
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ڈی اے وی اسکول بنجارہ ہلز کی مسلمہ حیثیت کو برخواست کرنے کا فیصلہ اولیائے طلبہ کیلئے پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ بچوں کے تحفظ کیلئے فکر مند والدین اب بچوں کے مستقبل پر فکر مند ہوگئے ہیں اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی آج عہدیداروں سے درخواست کی گئی ۔ حکومت نے اسکول کی مسلمہ حیثیت کو برخواست کرکے فوری اثر کے ساتھ اقدامات کا حکم دیا اور ڈی ای او کو ہدایت دی کہ وہ والدین کے شکوک و شبہات اور ان کی بے چینی کو دور کرنے اقدامات کریں ۔ ایل کے جی طالبہ پر جنسی حملہ کے بعد پولیس کی جانب سے خاطیوں کو گرفتار کرلیا گیا اور محکمہ تعلیم نے اسکول کی شناخت کو ختم کردیا ۔ مسلمہ حیثیت کو برخواست کرکے اسکول انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ طلبہ کی فیس فوری واپس کردیں تاکہ وہ دوسرے اسکولس میں داخلہ حاصل کرسکیں ۔ سرکاری فیصلے کے بعد اولیائے طلبہ کی الجھنوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اور وہ بچوں کے مستقبل کے تعلق سے فکر مند ہیں ۔ اس اسکول میں تقریبا 700 بچے زیر تعلیم ہیں جن کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے تاہم عہدیدار ان بچوں کو دوسرے اسکولس میں داخلہ کیلئے حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ اس دوران بچوں کے والدین نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ مسلمہ حیثیت کو برخواست کرنے سے درمیان سال دوسرے اسکولس میں بچوں کا داخلہ ان کی تعلیم کو متاثر کرسکتا ہے اور ٹرانسپورٹ انتظامات اور دوسرے اسکول کے ماحول میں بچوں کا فوری جڑنا مشکلات کا سبب بن سکتا ہے ۔ بچوں کے والدین نے عہدیداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ موجودہ اسکول کو جاری رکھتے ہوئے ایک کمیٹی کو تشکیل دیں اور کمیٹی کے تحت سرکاری نگرانی میں اسکولس کی سرگرمیوں کو جاری رکھیں ۔ عہدیداروں نے والدین کو یقین دیا کہ وہ ان کی درخواست وزیر تعلیم سے رجوع کریں گے ۔ ع