مسجد آنے والے مصلیان سے تمام تر احتیاط ملحوظ خاطر رکھنے کی اپیلیں
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں مساجد کی کشادگی کے احکامات کے باوجود کئی مساجد کی کمیٹیوں کی جانب سے مساجد میں داخلہ کی عام اجازت فراہم نہ کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 8جون سے مذہبی مقامات کی کشادگی کے فیصلہ کے بعد ریاستی حکومت نے بھی اس سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے ہیں لیکن شہر کی بیشتر مساجد میں لاک ڈاؤن کے دوران کی شرائط پر عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ سکندرآباد کی کئی مساجد میں محدود تعداد میں ہی مصلیوں کو داخلہ کی اجازت برقرار رکھی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مساجد کی کشادگی کے باوجود کچھ مدت کیلئے مساجد میں لاک ڈاؤن کے شرائط کے مطابق ہی مصلیوں کو اجازت حاصل رہے گی۔مساجد کی کشادگی کے اعلان کے ساتھ ہی علمائے اکرام کی جانب سے کافی غور و خوص کے بعد سماجی فاصلہ کی برقراری کے ساتھ نماز کی ادائیگی اور دیگر احتیاطی اقدامات کے سلسلہ میں فتویٰ جاری کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود بعض مساجد میں احتیاط کے تقاضوں کو پورا کرنے لاک ڈاؤن کے شرالط کے ساتھ مساجد کی کشادگی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مساجد کی کشادگی کے اعلان کے ساتھ ہی شہر کے سرکردہ عمائدین و علماء نے بھی اپیل کی ہے کہ نماز کی ادائیگی کیلئے ضعیف حضرات تشریف لانے سے احتیاط کریں علاوہ ازیں وہ لوگ جنہیں سردی ‘ کھانسی ‘ بخار کے علاوہ دیگر امراض ہیں وہ بھی گھرو ںمیں نماز کی ادائیگی کو ترجیح دیں ۔ اس کے علاوہ 12 سال سے کم عمر بچوں کو بھی مساجد روانہ نہ کیا جائے ۔ ذمہ داران نے اپیل کی ہے کہ مساجد میں اپنی جائے نماز خود لائیں اور وضو گھروں سے بنا کرآئیں کیونکہ ہر کی بیشتر مساجد میں بیت الخلاء ‘ طہارت خانوں اور وضوخانوں کو مقفل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مساجد میں سماجی فاصلہ کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی اور فرض نماز کی ادائیگی کے ساتھ ہی مساجد کو خالی کردینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔