کابل پر طالبان کے قبضہ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر

   

Ferty9 Clinic

کابل ۔ 10 جنوری (ایجنسیز) ایک نئی رپورٹ کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے مابین جنگ بندی برقرار ہے، تاہم شدت پسندوں کے حملے کی صورت میں پاکستان افغانستان پر پھر حملہ کر سکتا ہے۔ برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے سے انکار ہے۔ 2022 ء میں طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں تشدد کی لہر میں تیزی آئی اور صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایسے بیشتر حملے افغانستان کی سرحد سے متصل دو پاکستانی صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے۔ اسلام آباد ان حملوں کے لیے کالعدم عسکریت پسند گروپ ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے علیحدگی پسند باغی گروپوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اسلام آباد کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ اس کا روایتی حریف ہندوستان بھی ان گروپوں کی مدد کرتا ہے۔