ابوزہیرحافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
عارف باللہ ، شیخ الاسلام حضرت حافظ محمد انواراللہ فاروقی رحمہ اللہ الباری اسلامی یونیورسٹی جامعہ نظامیہ کے بانی ہیں۔ آپؒ کا اصل نام ’’محمد انوار اللہ‘‘ ہے اور نظام کی جانب سے ’’ فضیلت جنگ اور خان بہادر‘‘ کا لقب عطا کیاگیا۔ شیخ الاسلام بانیٔ جامعہ نظامیہ۴؍ ربیع الثانی ۱۲۶۴ھ کو بمقام ناندیڑ پیدا ہوئے۔ آپ کی والدۂ محترمہ علیھاالرحمہ کا بیان ہے کہ حمل کے دوران انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی خواب میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے زیارت کی۔
شیخ الاسلام حضرت حافظ محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ ، خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں۔ جب آپؒ سات سال کے ہوئے تو آپ کے والد نے آپ کو حفظ قرآن کیلئے حافظ امجد علی صاحب (نابینا) کے سپرد کر دیا۔ کمسنی یعنی ۱۰ سال کی عمر میں آپؒ نے حفظ قرآن مکمل کر لیا۔ آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ آپؒ نے فقہ اور منطق مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی سے پڑھی۔آپؒ نے تین مرتبہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں کا سفر اختیار فرمایا۔ پہلا سفر ۱۲۹۴ھ، دوسراسفر ۱۳۰۱ھ اور تیسرا سفر ۱۳۰۵ھ میں کیا۔ تیسری مرتبہ شیخ الاسلام نے وہاں تین سال تک قیام فرمایا۔ اِس دوران ضروریات زندگی کی تکمیل کے علاوہ وہ اپنا تمام وقت عبادت یا کتب خانوں میں کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ گزارتے۔ ان کی کتاب ’’انوار احمدی‘‘ شیخ الاسلام اُس زمانہ میں ہی تصنیف کی ہے۔ آپؒ نے کئی اہم اسلامی کتب کی نقول اپنے ذاتی خرچ پر تیار کروائی۔ ان میں سے اہم ترین کنزالعمال (ذخیرۂ حدیث)، جامع مسند شیخ الاسلام اعظم، سنن بیہقی ہیں اور ان کے علاوہ دیگر کتب بھی ہیں۔ اس سفر میں آپؒ کی بہن اور بیٹا بھی وفات پا گئے۔ مدینہ منورہ کے جید علمائے کبار اور صوفیاء خصوصاً شیخ طریقت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قبلہ رحمہ اللہ الباری کے اصرار پر شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نےشہر حیدرآباد واپس آنے کا ارادہ کر لیا۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس دونوں شہروں سے واپسی کے بعد شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی تقرری ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خان کے اطالیق کے طور پر ہو گئی۔ ساتویں نظام کی تاج پوشی کے بعد آپؒ نے اپنا تمام وقت علوم اسلامیہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔ تاہم نظام نے ان کو دکن کے صدر الصدور کے عہدہ کے لئے قائل کر لیا۔ اگرچہ آپؒ نے اعتراض کیا کہ وہ سرکاری ملازمت میں عمرکی حد (۵۵ سال) سے تجاوز کر چکے ہیں۔ نظام نے اُنھیں بتایا کہ اس عہدہ کیلئے اُن سے زیادہ اسوقت مناسب کوئی اور شخصیت نہیں ہے۔ بعد میں آپؒ مذہبی امور کے وزیر بنادیئے گئے۔قیام ازہرِہند جامعہ نظامیہ ۱۹ ؍ ذوالحجہ ۱۲۹۲ھ کو عمل میں آیا۔ الحمد للہ مذکورہ تاریخ سے لیکر اب تک تعلیمی سفر جاری و ساری ہے۔آپؒ نے درج ذیل کُتب ’’حقیقۃ الفقہ جلد اول و دوم،انوار احمدی، مقاصد الاسلام (گیارہ جلدیں)، افادۃ الافہام اول، دوم، الکلام المرفوع، انوار اللہ الودود فی مسئلۃ وحدت الوجود، انوار الحق، کتاب العقل وغیرہ‘‘ تصنیف کیں۔
شیخ الاسلام ؒنے فرمایا : ہمارے دین میں ادب کی نہایت ضرورت ہے جب تک اہل اسلام میں کامل طور پر ادب رہا دن دونی رات چوگنی ترقی ہوتی رہی۔ ٭ آپؒ نے فرمایا: گالی وہی نہیں ہوتی جو عرف میں مشہور ہے بلکہ مقصد گالی سے فقط کسر شان
مقصود ہوتا ہے اسوجہ سے جس بات میں حضور ﷺ کی کسر شان بیان کی جائے وہی گالی ہوگی۔ ٭ آپ نے فرمایا: وہ لوگ بڑے ناخلف (نااہل) ہیں جن کے دل میں آنحضرت ﷺ کی وقعت (عظمت) نہیں۔ ٭ آپ نے فرمایا: اولاد پر اُن (والدین) کی حق شناسی اور تعظیم فرض کی گئی ہے کیوں کہ وہ ہمارے وجود کا باعث ہوئے۔ ٭ آپ نے فرمایا: حکومت کا نشہ اکثر آدمی کوبدمست بنادیتا ہے۔ ٭ آپ نے فرمایا: جو کام خلوص سے کیا جائے اس میں ایمانی فائدہ ہے۔ ٭ آپ نے فرمایا: خدا ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے کہ اچھوں کے لباس میں آکر مکر پھیلاتے ہیں اور مسلمانوں کے دین کو غارت کرتے ہیں۔ ٭ آپ نے فرمایا: اسلام میں پہلا فرقہ جو مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہوا وہ فرقہ خوارج (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین) ہے۔٭ آپ نے فرمایا: جس کے نزدیک درود شریف کی عظمت نہ ہو تو سمجھ سکتے ہیں کہ
اس میں اِس خطاب (یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کی قابلیت ہی نہیں۔ ٭ آپ نے فرمایا: یہ کمال درجہ کی ہٹ دھرمی ہے کہ آدمی اپنے معلومات پر اعتماد کرکے دوسروں کے معلومات نظرانداز کردے۔ ٭ آپ نے فرمایا: خرچ کو ہمیشہ آمد سے زائد رکھنا چاہئے تاکہ احتیاج الی اللہ باقی رہے۔ ٭ آپ نے فرمایا: جب میں اجلاس پر بیٹھتا ہوں یا فیصلہ لکھنا شروع کرتا ہوں تو پہلے حضرت سرور دوعالم ﷺ کی روح پاک کی طرف متوجہ ہوکر عرض کرتا ہوں کہ ’’میں ایک ذرّۂ بے مقدار ہوں میرا معاملہ آپ کے حوالہ ہے جب تک آپ مدد نہ فرمائیں راہِ راست نہیں مل سکتی‘‘ اس کے بعد فیصلہ لکھنے کے لئے قلم اُٹھاتا ہوں۔ (اخذ : مقاصد الاسلام،حقیقۃ الفقہ ، مطلع الانوار، انوار احمدی)
وصال : حضرت علامہ مفتی محمد رکن الدین علیہ الرحمہ ( شاگرد حضرت بانیٔ جامعہ نظامیہ اور مفتی اول جامعہ نظامیہ) نے اپنی کتاب ’’مطلع الانوار‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی پیٹھ پر کچھ پھوڑے نکل آئے۔ نظام کے حکم پر ماہر اطباء کو بلایا گیا،دورانِ علاج اطباء نے تصدیق کر دی کہ یہ مرضِ سرطان ہے۔ جراحی کی گئی۔ ایک طویل جراحی کے بعد پھوڑا نکال دیا گیا۔ بعد علاج اطباء نے شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کو صحت یابی کی اطلاع دی تو شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے اطباء کا شکریہ ادا کیا اور بعد مغرب دوبارہ معائنہ کیلئے کہا۔ جب شیخ الاسلام ؒبستر پر لیٹے تو آپ کا چہرہ زرد تھا۔ آپؒ کی زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہوا اور پھر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ اُدھر جمادی الاولیٰ کے آخری دن کا سورج غروب ہونے کے بعد غرہ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ کا چاند طلوع ہوا تو اِدھر حضرت شیخ الاسلام جیسا علمی چاند غروب ہوگیا۔ (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ) شہر کی تاریخی مکہ مسجد میں بعدنماز جمعہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اور شیخ الاسلام ؒکو احاطۂ جامعہ نظامیہ میں سپرد خاک کیا گیا۔
([email protected])