کار کی اسپیڈ کو بریک لگانے میں کانگریس ، بی جے پی ناکام

   

40 رکنی کونسل میں حلیفوں کے ساتھ ٹی آر ایس کی تعداد 39 ۔ کانگریس ایک ۔ بی جے پی صفر
حیدرآباد ۔ 14 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں حصول اقتدار کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والی کانگریس اور بی جے پی کو مجالس مقامی کے کونسل انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ کسی بھی نشست کے لیے کانگریس اور بی جے پی نے حکمران جماعت ٹی آر ایس کو کہیں بھی سخت مقابلہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ریاست میں پھر ایکبار ٹی آر ایس ناقابل تسخیر بن کر ابھری ہے ۔ کار کی اسپیڈ کو روکنے میں کانگریس اور بی جے پی دونوں پوری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بی جے پی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ کانگریس سے فی الحال جیون ریڈی نمائندگی کررہے ہیں ۔ کونسل میں بی جے پی کی کوئی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود اس کے قائدین حکومت کے خلاف الزامات عائد کررہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مجالس مقامی کے 12 ایم ایل سی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا ۔ جن میں 6 نشستوں پر ٹی آر ایس کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ 5 اضلاع کے 6 نشستوں کے لیے 10 دسمبر کو رائے دہی ہوئی جس کے آج نتائج برآمد ہوئے ۔ 6 نشستوں پر ٹی آر ایس نے کلین سوئیپ کیا ہے ۔ متحدہ ضلع کریم نگر میں کانگریس اور بی جے پی نے پارٹی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آزاد امیدوار رویندر سنگھ کی تائید کی جنہیں صرف 232 ووٹ حاصل ہوئے گذشتہ 7 سال کے دوران ریاست میں منعقد ہوئے انتخابات میں ٹی آر ایس نے 99 فیصد کامیابی حاصل کی ہے ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے جملہ ارکان کی تعداد 40 ہے ۔ جس میں حکمران ٹی آر ایس کے 36 اور اس کی حلیف جماعتوں کے ساتھ کونسل میں اس کی تعداد 39 ہے ۔ اس طرح تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بھی 95 نشستوں پر ٹی آر ایس کا قبضہ ہے ۔۔ ن