واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاش ڈونالڈ ٹرمپ بلیچ والا انجکشن لگا لیتے۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے یہ مذاق کورونا وائرس وبا کے ابتدائی دنوں میں دیئے گئے ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک بیان کو یاد کرتے ہوئے کیا۔دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے مہم کے دوران ریاست سان فرانسسکو کے جنوبی علاقہ میں ایک فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب میں صدر بائیڈن نے اپنے مخالف امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کی۔انہوں نے ووٹرز سے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں کیسے خراب حالات تھے۔ صدر بائیڈن نے کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں دیے گئے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یاد ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ سب سے بہتر کام یہ ہے کہ آپ اپنے بازو میں تھوڑا سا بلیچ انجکشن کے ذریعہ لگائیں؟ اس نے یہی کہا اور اس کا مطلب یہی تھا۔ کاش! اس نے خود تھوڑا سا بلیچ لیا ہوتا۔
2020 میں وبائی مرض کے ابتدائی مہینوں کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بلیچ یا آئسوپروپل الکوحل جیسے جراثیم کش کو انسانی جسم میں ’انجکشن‘ کے ذریعے داخل کرنے سے وائرس سے حفاظت میں مدد مل سکتی ہے۔صدر بائیڈن نے ڈونالڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ سے رابطہ کو ’محبت کے خطوط‘ کہہ کر مذاق اڑایا تاہم انہوں نے غلطی سے کم جونگ کو جنوبی کوریا کا صدر کہہ دیا۔ صدر ٹرمپ نے کِم جونگ سے ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ متعدد خطوط کا تبادلہ کیا تھا جن کی کاپیاں اوول آفس میں رکھی ہوئی تھیں۔ٹرمپ کی صدارتی مہم کے ترجمان نے صدر بائیڈن کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کے لیے روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔صدر بائیڈن اس سے پہلے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے بلیچ والے معاملے کا مذاق اْڑا چکے ہیں۔