عوامی مسائل کو فوری حل کرنے کا مطالبہ ، بی آر ایس ، بی جے پی کونسلروں کا احتجاج ۔ کانگریس کے جوابی الزامات
کاما ریڈی ۔ 29 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاما ریڈی میونسپل کارپوریشن کا اجلاس صدر نشین بلدیہ اومارانی کی صدارت میں منعقد ہوا اس اجلاس میں بی آر ایس بی جے پی کے اراکین بلدیہ نے ان کے وارڈوں میں بغیر اطلاع کے کاموں کو کرنے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کر نا شروع کیا ، بی آر ایس نے صدر نشین بلدیہ کے پوڈیم کے روبرو دھرنا دیا تو بی جے پی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نعرے بازی کی ، افرا تفری کے ماحول میں اجلاس منعقد ہوا ۔ وارڈوں میں ترقیاتی کاموں سے متعلق کونسلروں کو مناسب اطلاع نہ دینے کے معاملے پر بی آر ایس کونسلروں نے شدید احتجاج کیا، جس کے باعث اجلاس میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی بی آر ایس کونسلر پوڈیم کے سامنے پہنچ گئے اور الزام عائد کیا کہ ان کے وارڈوں میں عہدیدار کونسلروں کو اطلاع دیے بغیر ترقیاتی کام انجام دے رہے ہیں۔ 18ویں وارڈ کے بی آر ایس کونسلر مرزا حفیظ بیگ نے اپنے وارڈ کے مسائل، ترقیاتی کاموں اور عوامی حقوق پر سختی سے آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر سوال اُٹھانا اور وارڈ کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی صورتحال میں وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی دوران کونسلر پربھاکر یادو نے بھی اعتراض کیا کہ ان کے وارڈ میں ایک ماہ قبل جے سی بی کے ذریعے شروع کیا گیا کام درمیان میں روک دیا گیا، جبکہ اب اسی کام کو ان کی اطلاع کے بغیر دوبارہ انجام دیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر منتخب کونسلروں کو اعتماد میں لیے بغیر کام کیے جانے ہیں تو پھر ان کے عہدوں کی ضرورت کیا ہے، اور ایسی صورتحال جاری رہی تو وہ کونسلر کے عہدوں سے استعفیٰ دینے پر غور کریں گے۔ بی آر ایس کونسلروں نے عہدیداروں کے رویے کے خلاف سیاہ رومال میز پر رکھ کر احتجاج بھی کیا۔ دوسری جانب بی جے پی کونسلروں نے کاما ریڈی میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے باوجود مستقل کام نہ کیے جانے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف نعرے لگائے، جس پر کانگریس قائدین برہم ہوگئے اور دونوں گروپوں کے درمیان لفظی تکرار ہوئی۔ اس دوران کانگریس کارکنوں کی جانب سے کرسیاں توڑے جانے کے بعد میونسپل دفتر میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ بی جے پی کونسلروں نے کاما ریڈی شہر میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کا الزام بھی کانگریس کونسلروں پر عائد کیا۔ اس طرح ترقیاتی کاموں پر بی آر ایس کونسلروں کے احتجاج، بی جے پی کے نعروں اور کانگریس قائدین کے ردعمل کے باعث میونسپل اجلاس الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان ہنگامہ خیز صورتحال اختیار کرگیا۔ بعد ازا ہر ورڈ کے لیے چھ لاکھ روپئے منظور کرتے ہوئے قرارداد منظور کیا گیا۔