کامیابی کیلئے محنت اور دعا ضروری، ایم ایس کے ہونہار طالب علم حافظ محمدعبدالحیط ثمل کا انٹرویو

   

ہردور میں کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیمی میدان میں اس کی کامیابی میں مضمر رہا، تعلیم یافتہ اقوام نے ہی دنیا بھر میں اپنی کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑھے۔ برصغیر میں یہ کام سرسید احمد خاں نے علامہ سر محمد اقبال اور پھر کئی ایک ہمدردان ملت نے بڑی سنجیدگی سے کیا۔ اس معاملہ میں خاص طور پر جنوبی ہند میں ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی اس کے چیرمین محمد لطیف خاں اور ان کے رفقاء نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کا 1991 میں قیام عمل میں آیا جس کا مقصد نہ صرف نونہالانِ ملت کو تعلیمی شعبہ میں آگے بڑھانا بلکہ انہیں پیشہ ورانہ کورسیس میں داخلوں کیلئے منعقد ہونے والے مسابقتی امتحانات کیلئے تیار کرانا تھا۔ اللہ عزوجل نے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کو اس کے مقصد میں کامیابی عطا کی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 30 برسوں میں اس کے تعلیمی اداروں بشمول ایم ایس کریٹیو کڈس‘ ایم ایس کریٹیو اسکولس‘ ایم ایس جونیئر کالجس اور ایم ایس ڈگری کالجس میں طلبہ کی تعداد 33 ہزار تک پہنچ گئی ہے اور یہ کوئی معمولی نہیں غیر معمولی بات ہے ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی نے جہاں تلنگانہ میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو حیدرآباد، سکندرآباد، محبوب نگر، سدا سیو پیٹ اور ظہیرآباد تک وسعت دی ہے وہیں قومی سطح پر مہاراشٹرا کے ممبئی، ممبرا ، بھیونڈی، میرا روڈ اور ناندیڑ، اُتر پردیش کے آگرہ وکانپور ، دہلی کے ذاکر نگر، موج پور اور پرانی دہلی میں اپنے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ ایم ایس ایجوکیشن کا ایک فلسفہ ایک مشن ایک ویژن اور اس کے اقدار ہیں جس کے تحت وہ نونہالانِ ملت کو ملک و ملت کا قیمتی اثاثہ بنانے اور اُن میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ایم ایس آئی اے ایس اکیڈیمی نے ملک بھر میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے، اس کے تاحال تیس Star Achievers ہیں جن میں یو پی ایس سی میں قومی سطح پر 58 واں رینک حاصل کرنے والے فیضان احمد، 270 واں رینک حاصل کرنے والے محمد حارث سمیر، 481 واں رینک حاصل کرنے والے محمد عاصم مجتبیٰ اور 822 واں رینک حاصل کرنے والے محمد برہان زمان نمایاں ہیں۔ واضح رہے کہ تاحال ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے 2012 طلباء و طالبات کو ایم بی بی ایس کی فری سیٹس حاصل ہوئیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ایم ایس کے طلبہ کو انجینئرنگ نشستیں حاصل ہوئیں۔ ایم ایس کے ذریعہ تاحال 141 طلبہ سی اے بنے ہیں، اسی طرح آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹی میں 173 طلبہ کو داخلے ملے۔ ایم ایس حفظ اکیڈیمی سے 371 طلباء و طالبات نے حفظ مکمل کیا۔ ایس ایس سی کے 95 طلبہ کو 10/10 جی پی اے حاصل ہوا، ایسے میں 50 سے زائد تعلیمی ادارے چلارہے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کو ماڈرن اسلامک ایجوکیشن کا ایک مثالی تعلیمی مرکز کہا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں ایم ایس جونیئر کالج مہدی پٹنم کے طالب علم حافظ محمد عبدالمحیط ثمل نے JEE مین سیشن I میں 99.86 پرنٹسائل حاصل کیا ہے جبکہ محمد ریدان نے 99.74 ، محمد زاہی فیضل نے 99.54 ، حمزہ ویصال نے 99.42 اور عدنان فیاض این کے نے 99.00 فیصد پرنٹسائل حاصل کرکے ایک تاریخ رقم کی جبکہ 16 طلبہ نے 98.76 فیصد سے لیکر 90.13 پرنٹسائل حاصل کیا۔ نمائندہ سیاست نے اس ضمن میں99.86 پرنٹسائل حاصل کرنے والے طالبعلم محمد عبدالمحیط ثمل اور ان کے والدین محمد عبدالمعید ریاض اور ام رومان اسماء سے انٹرویو لیا۔ حافظ محمد عبدالمحیط ثمل نے اپنی کامیابی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کچھ اس طرح جواب دیا : ’’ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ اس قسم کا نتیجہ آیا ہے، ہماری محنت اور کوشش تھی میں نے اسی طرح محنت کی جو عام طور پر مسابقتی امتحانات کیلئے کی جاتی ہے۔ ہاں‘ ایک بار ضرور ہے کہ میں نے چھٹیوں میں بھی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا اور اللہ عزوجل نے اس محنت کا صلہ شاندار کامیابی کی شکل میں دیا۔‘‘ ایک اورسوال کے جواب میں اس ہونہار طالب علم نے بتایا کہ وہ فی الوقت انٹرمیڈیٹ سال دوم میں زیر تعلیم ہے، ابتداء سے ہی ان کی تعلیم ایم ایس سے ہوئی، ایم ایس کریٹیو اسکول سے PP2 یعنی یو کے جی ‘ پھر اکبر باغ ایم ایس میں پری پرائمری پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ، چھٹویں تا ساتویں جماعت ملے پلی ایم ایس میں پڑھا اور وہیں ایم ایس حفظ اکیڈیمی سے دو برسوں میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 8 ویں جماعت ایم ایس مدھانی برانچ سے کیا، نویں اور دسویں ایم ایس ایمپیاڈ سے کیا اور لطیفی ۔40 کے تحت انٹر میڈیٹ کررہے ہیں۔ اس سوال پر کہ آپ کے پسندیدہ ٹیچر کون ہیں ؟ حافظ محمد عبدالمحیط ثمل کا کہنا تھا کہ ہر ٹیچر فیورٹ ہیں ہر کسی نے علم دیا ہے، علم میں اضافہ کیا ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ حافظ محمد عبدلمحیط ثمل کے والدین جس طرح خوش قسمت ہیں ان کے اساتذہ بھی اتنے ہی خوش قسمت ہیں جن سے تعالیٰ طلبہ کی زندگیوں کو سنوارنے کا کام لے رہا ہے، ویسے بھی آج کے تعصب و جانبداری کے پُرآشوب دور میں علم ہی ہے جو اس طرح کی گندی طاقتوں کے خلاف ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ حافظ محمد عبدالمحیط نے انٹر میڈیٹ سال اول میں 470 میں سے 466 نمبرات حاصل کئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فی الوقت جے ای ای اڈوانسڈ کی تیاری کررہے ہیں اور ملک کے کسی بھی باوقار آئی آئی ٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ حافظ محمد عبدالمحیط ثمل نے ایم ایس کے ہاسٹلس میں رہ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہاسٹل میں ماحول بہت اچھا رہتا ہے، طعام کی اچھی سہولت ہے۔ کامیابی کیلئے انہوں نے محنت اور دعا کواہم قرار دیا۔ اس ہونہار طالب علم کے والد عبدالمعید ریاض سے بھی جنھوں نے اپنے فرزند کی کامیابی پر فخر اور شکر کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں فخر بھی ہے خوشی بھی ہے کہ ان کے بیٹے نے محنت کی اور اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے تمام بچے ابتداء سے ہی ایم ایس سے تعلیم حاصل کررہے ہیں، ادارہ کا اچھا تعاون حاصل رہا اور یہاں کا ماحول بھی بہت اچھا ہے۔ عبدالمعید ریاض حافظ ، عالم اور مفتی ہیں اور ایک مدرسہ و مسجد کی خدمت کرتے ہیں۔ ایم ایس‘ علماء آئمہ و خطیب صاحبان کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدارس کی خدمت کرنے والوں کے بچوں کو خصوصی اسکالر شپس دے کر ان کے تعلیمی سفر کو آگے بڑھاتا ہے۔ حافظ عبدالمحیط نے بھی علماء زمرہ کی اسکالر شپ حاصل کی۔ عبدالمعید ریاض کو چار بچے ہیں‘ حافظ عبدالمحیط بڑے ہیں اور تین لڑکیاں ہیں ‘ دو بیٹیوں نے حفظ کیا جبکہ تیسری لڑکی بھی ایم ایس میں حفظ اکیڈیمی سے ہی حفظ کررہی ہے۔ حافظ محمد عبدالمحیط ثمل کی والدہ ام رومان اسماء کے مطابق وہ اپنے بچوں کی کامیابی کیلئے سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لاتی ہیں پھر اپنے بزرگوں، ایم ایس کے اساتذہ اور ذمہ داروں سے اظہار تشکر کرتی ہیں جن کی محنت کے نتیجہ میں ان کے بچے قابل بنے ہیں۔ ایک استفسار پر انہوں نے بتایا کہ جو بچے حافظ ہوتے ہیں ان کیلئے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ حافظ عبدالمحیط نے انٹرویو کے آخر میں ایک اہم بات کی وہ یہ کہ طلبہ کیلئے فون سے جتنا دور رہیں گے اتنا ہی اچھا ہوگا اور پھر محنت کرکے دعائیں کرتے رہیں اللہ عزو جل کامیکابی عطا کریں گے۔