ہندوستان کی تاریخ کا ایک طویل ترین احتجاج بالآخر ہفتہ 11 ڈسمبر کو ختم ہوجائیگا ۔ متحدہ کسان مورچہ نے آج اعلان کیا کہ وہ ہفتہ کو اپنا احتجاج ختم کر رہے ہیں۔ کسان احتجاج ہندوستان میں تاریخی نوعیت کا ہوگیا ہے اور یہ انتہائی کامیاب احتجاج رہا ہے جس سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ عزم مصمم اور بلند حوصلوں کے ساتھ اپنے جائز مطالبات کو دستور ہند کے دائرہ میں رہتے ہوئے منوایا جاسکتا ہے اور اقتدار و طاقت کے زعم والی حکومتوں کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ کسانوں نے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف اپنے احتجاج کا آغاز کیا تھا ۔ بارہا اعلانات کرتے ہوئے کہ قانون واپس نہیں ہونگے حکومت نے بات چیت کی اور احتجاج کو ختم کروانے کی کوشش کی ۔ کئی ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ۔ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹو اینکروں کے ذریعہ کسان احتجاج کو بدنام کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن کسان اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے ۔ انتہائی مشکل اور نا مساعد حالات میں بھی انہوں نے احتجاج جاری رکھا ۔ نہ گرمی کی پرواہ کی اور نہ بارش سے پریشان ہوئے ۔ شدت کی گرمی برداشت کی اور گودی میڈیا کے نت نئے طعنے جھیلے تاہم انہوں نے اپنے مطالبات کی یکسوئی تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کیا اور ڈٹے رہے ۔ بالآخر حکومت کو ہی ان نہتے لیکن ارادوں کے پکے کسانوں کے آگے جھکنا پڑا ۔ ایک صبح اچانک ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تینوں متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کیا ۔ چند دنوں کے اندر اندر اس کا مسودہ تیار کرلیا گیا ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران ان قوانین سے دستبرداری کا بل پیش کیا گیا اور بالآخر پارلیمنٹ میں ‘ جہاں یہ قوانین بنائے گئے تھے ‘ ان قوانین کو اوپس لینے کا بھی بل منظور کرلیا گیا ۔ یہ کسانوں کی پہلی کامیابی تھی ۔ کسانوں نے تاہم اپنے دوسرے مطالبات تک بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا اور ڈٹے رہے ۔ بالآخر حکومت نے اقل ترین امدادی قیمت پر قانون سازی اور احتجاج کے دوران کسانوں کے خلاف درج مقدمات سے دستبرداری سے بھی اتفاق کرلیا ۔
کسان گذشتہ پندرہ مہینوں سے احتجاج کر رہے تھے ۔ راکیش سنگھ ٹکیت نے اس احتجاج کی انتہائی حکمت عملی کے ساتھ اور پروقار انداز میں قیادت کی ۔ انہیں الجھانے کی اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کئی گوشوں کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی گئی بلکہ سازشیں بھی کی گئیں لیکن انہوں نے اپنے مطالبات پر توجہ مرکوز رکھی اور مسائل سے بھٹکانے کی کوششوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا ۔ انہوں نے حکومت کے ہر سوال کا موثر ڈھنگ سے جواب دیا ۔ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹو اینکروں کے اشتعال کا بھی شکار نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی قابل گرفت ریمارک کیا ۔ کسانوںکو خالصتانی قرار دیا گیا۔ موالی قرار دیا گیا ۔ سڑک چھاپ کہا گیا ۔ بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے عناصر قرار دیا گیا ۔ انہیںدہشت گرد تک کہا گیا اور اربن نکسل کہنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔ا ن سارے الزامات کے درمیان راکیش ٹکیت کی قیادت میں کسان اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے ۔ ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ انہیں گاڑیاں دوڑا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ انہیں نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ ان پر تنقیدوں اور طعنوں کی بوچھار کی گئی ۔ انہیں سماج میں رسواء اور بدنام کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا اس سب کے باوجود کسانوں کے عزم و حوصلوں میں کوئی فرق نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے صبر کا دامن چھوڑا ۔ یہ لوگ دھن کے پکے رہے اور بالآخر ان کے عزم مصمم کے آگے اقتدار کے نشہ میں دھت حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔
حکومت نے اب نہ صرف تینوں متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرلی ہے بلکہ اس نے اقل ترین امدادی قیمت کیلئے قانون سازی کا بھی تیقن دیا ہے اور احتجاج کے دوران کسانوں کے خلاف درج مقدمات سے دستبرداری اختیار کرنے سے بھی اتفاق کرلیا ہے ۔ حکومت کے تحریری تیقن کے بعد اب کسانوں نے بھی اپنے احتجاج سے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے اور کہا کہ ہفتہ 11 ڈسمبر کو احتجاج ختم کردیا جائیگا ۔ یہ کسانوں کی ایک بڑی اور شاندرا کامیابی ہے تاہم یہ کامیابی انہوں نے بھاری قیمت چکاتے ہوئے حاصل کی ہے ۔ کسانوں کے جذبہ کو سلام کیا جانا چاہئے اورا س سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اپنے جائز مطالبات کو جہد مسلسل اور عزم صمیم کے ذریعہ منوانا مشکل ہوسکتا ہے لیکن نا ممکن نہیں۔
