کانگریس حکومت نے مسلمانوں کی عزت نفس کا مذاق اڑایا : کے ٹی آر

   

اقلیتوں نے انتخابات میں بی آر ایس کا ساتھ دیا
حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر مسلمانوں کے عزت نفس کا مذاق اڑانے کا الزام عائد کیا ۔ آج تلنگانہ بھون میں بی آر ایس پارٹی کے اقلیتی قائدین کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں سابق وزیر داخلہ محمد محمود علی سابق صدور نشین محمد سلیم ، امتیاز اسحاق بی آر ایس کے قائد شیخ عبداللہ سہیل کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں بلڈوزرس کے ذریعہ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچایا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی اپنی کابینہ میں مسلم نمائندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کی عزت نفس کو بلڈوز کیا ہے ۔ ریاست کی اقلیتیں اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی تائید کی تھی جس کی وجہ سے کانگریس حکومت ان سے سیاسی انتقام لے رہی ہے ۔ کانگریس کے اقتدار میں آتے ہی ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی دوبارہ شروع ہوگئی ہے ۔ انہوں نے اضلاع سنگاریڈی اور نلگنڈہ میں پیش آئے واقعات کا حوالہ دیا ۔ ان واقعات کو کنٹرول کرنے میں کانگریس حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ دولت آباد میں ایک پانچ سالہ بچہ پر حملہ کیا گیا ۔ کانگریس حکومت نے بے قصور نوجوانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ہی کہہ چکے تھے کہ کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو فسادات ہوں گے ۔ اس کا صرف 50 دن میں ثبوت مل گیا ہے ۔ بی آر ایس کا دور حکومت فسادات ، کشیدگی اور کرفیو سے پاک تھا ۔ مسلمانوں کی تائید سے بی آر ایس نے بیشتر اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ایک سیکولر جماعت ہے ۔ کانگریس حکومت نے 50 دن میں اقلیتی مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس بھی منعقد نہیں کیا ۔ تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان خفیہ اتحاد ہوچکا ہے ۔ کانگریس اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ بی آر ایس کے خلاف کانگریس پارٹی گمراہ کن مہم چلا رہی ہے ۔ اس کا منھ توڑ جواب دینے کی بی آر ایس کے اقلیتی قائدین کو ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ 1953 کے بعد پہلی مرتبہ ریاستی کابینہ میں اقلیتوں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے ۔ محمد علی شبیر کو صرف حکومت کے مشیر کے حد تک محدود کردیا گیا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کو زیادہ سے زیادہ حلقوں پر کامیاب بنانے کی اقلیتوں سے اپیل کی ۔۔ 2