بی آر ایس کا اقلیتی اجلاس ، شیخ عبداللہ سہیل کی پارٹی میں شمولیت ، وزراء کے ٹی آر ، محمد محمود علی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔30اکتوبر(سیاست نیوز) بھارتیہ راشٹریہ سمیتی ( بی آر ایس) کا اقلیتی اجلاس جل وہار میں بصدارت وزیر داخلہ محمد محمودعلی منعقد ہوا اور وزیر انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے ٹی راما رائو نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ر یاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے بشمول گریٹر حیدرآباد کے اقلیتی قائدین‘ مختلف اقلیتی اداروں کے صدرنشین اور کارکنان کی کثیرتعداد نے اس پروگرام میںشرکت کی ۔اراکین اسمبلی ماگنڈی گوپی ناتھ ‘ موٹھاگوپال ‘ دانم ناگیندر‘ کے وینکٹیش‘ کے علاوہ تلاسانی وجئے سائی کرن یادو نے بھی اس اجلاس میںشرکت کی ۔ اعظم علی خرم کی نگرانی میں اجلاس کا انتظام کیا گیا تھا ۔ جبکہ قیوم انور نے اجلاس کی کاروائی چلائی۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دیکر بی آر ایس میںشامل ہونے والے شیخ عبداللہ سہیل کا بھی پارٹی کھنڈوا پہناکر کے ٹی آر نے بی آر ایس پارٹی میںخیر مقدم کیا۔ کھادی ولیج بورڈ کے صدر مولانا یوسف زاہد کی قرات کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا جس میںاپنے صدارتی خطاب کے ذریعہ محمد محمودعلی نے تلنگانہ کے عوام بالخصوص اقلیتوں سے بی آر ایس کے حق میںاپنے ووٹ کے استعمال کی اپیل کی ۔ محمد محمودعلی نے کہاکہ کرناٹک دہرانے کا کانگریس تلنگانہ میں دعوی کررہی ہے جبکہ کرناٹک او رتلنگانہ کے حالات میںبڑا فرق ہے ۔ پچھلے نو سالوں میں کے سی آر کی قیادت نے اناج ‘پانی او ربجلی کی ریاست میںکبھی کمی ہونے نہیں دی ۔ کے سی آر نے ایک کمزور او رمظالم کا شکار ریاست کو نو سال میںترقی کی اونچائی پر پہونچایا ہے ۔کانگریس نے اپنے 70سالہ دور اقتدار میں تلنگانہ کے عوام کو اپنا غلام بناکر رکھ دیا تھا مگر بی آر ایس پارٹی نے تلنگانہ کے عوام کو ان کا کھویا مقام دلانے کاکام کیاہے۔ کے ٹی راما رائو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی کے تمام قائدین اورکارکنوں کے اجلاس میںشرکت پر اظہار تشکرکیا او رکہاکہ بی جے پی کا خوف دلاکر دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے کی کانگریس پارٹی کوشش کررہی ہے ۔ کے ٹی راما رائونے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم کہنے والوں سے مخاطب ہوکر کہاکہ بی آر ایس نے کبھی بھی فرقہ پرست طاقتوں سے ہاتھ نہیںملایاجبکہ مہارشٹرا میںکٹر ہندوتوا پارٹی شیو سینا ( یو بی ٹی) سے کانگریس نے ہاتھ ملایا اور حکومت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1956کے انتخابات میںاقتدار حاصل کرنے کے بعدنہرو کی کابینہ میںآر ایس ایس نظریہ ساز شیاما پرساد مکھرجی کو وزیرکانگریس نے بنایاتھا۔ اورآج گاندھی بھون میںریونت ریڈی کی شکل میں گوڈسے کو کانگریس نے ہی پی سی سی کا صدر بنایاہے۔کے ٹی آر نے پھر ایک مرتبہ اقامتی تعلیمی اداروں کے قیام کاذکر کیا او رکہاکہ حکومت نے 204اقامتی اسکول قائم کئے ہیںجہاں پر لاکھوں بچے ہر سال تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کے ٹی راما رائو نے حالیہ دنوں میں میلا د النبیؐ اور گنیش وسرجن کا بیک وقت آنا اور مسلمانوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر میلا د جلوس کو ملتوی کرنے کے اعلان کو ریاست تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال قراردیااور کہاکہ حکومت پر مسلمانوں کا یہ ایک بڑا احسان ہے ۔چیرمین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خان‘ چیرمین اقلیتی مالیتی کارپوریشن امتیازاسحاق‘ چیرمین اقلیتی کمیشن طارق انصاری ‘ چیرمین اُردو اکیڈیمی محمد مجیب الدین ‘ چیرمین حج کمیٹی الحاج محمد سلیم بھی شہہ نشین پر موجود تھے پارٹی کے دیگر قائدین جس میں صلاح الدین لودھی‘ میر عنایت علی باقری‘ محمد بدرالدین‘ او ر سابق ڈپٹی میئر گریٹر حیدرآبادبابا فصیح الدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کانگریس او ربی جے پی کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔