مسلمانوں کو بتاکر آر ایس ایس دلتوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔’’ میرا نظریہ بالکل صاف ہے ‘‘
تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے جناح پر ابوالکلام کو فوقیت دی
مسلمانوں کی ماب لنچنگ کو میں قتل مانتا ہوں
حیدرآباد : /3 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہر مظلوم ہندوستانی کے ساتھ ہے جو دستور اور قومی پرچم کا احترام کرتے ہیں ۔ مذہب و ملت ذات پات سے بالاتر ہوکر کانگریس پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے جسے بی جے پی نشانہ بنارہی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا اصلی نشانہ مسلمان نہیں بلکہ دلت ہے ۔ مسلمانوں کو دیکھاکر خوف پھیلانے کے منصوبہ پر بی جے پی کام کررہی ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ مسلمانوں نے تقسیم ہند کے موقع پر جناح پر مولانا ابوالکلام آزاد کو فوقیت دیتے ہوئے ہندوستان کو اپنا مادر وطن بنانا پسند کیا ہے ۔ مودی حکومت گوالکر کی پالیسی پر عمل کررہی ہے جبکہ کانگریس پارٹی نفرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف محبت کا متبادل نظریہ پیش کرتے ہوئے فلسفہ ہندوستان کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش میں جٹی ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا کرنے والے راہول گاندھی نے سنگاریڈی میں اقلیتوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی ، کانگریس کے سینئر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر ، سابق رکن پارلیمنٹ مدھو گوڑ یشکی، تلنگانہ پردیش کانگریس کے نائب صدر ظفر جاوید ، صدر تلنگانہ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، کانگریس کے سینئر قائد کے راجو موجود تھے ۔ ملک میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ ہونے کے سوال پر راہول گاندھی نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماب لنچنگ نہیں ہے بلکہ قتل ہے وہ تو اس کو قتل مانتے نہیں ۔ آر ایس ایس کو مسلمانوں کی کوئی فکر ہے نا کوئی لینا دینا ہے ۔ وہ آپ کا نام لیتے ہوئے ہندوؤں کو مشتعل کررہی ہے ۔ مسلمانوں کو ملک میں ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کانگریس پارٹی مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی ۔ ملک کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ ملک کی تعمیر میں مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ ہر شعبہ میں مسلمانوں نے گرانقدر رول ادا کیا ہے ۔ مسلمان ملک کا حصہ ہیں ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ اور ان ہی کے ساتھ غلط رویہ اور ناانصافی ہورہی ہے ، اور ساتھ ہی انہیں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے نفرت کو محبت میں تبدیل کرنے کیلئے بھارت جوڑو یاترا شروع کی ہے ۔ ہندوستان میں سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں ۔ کانگریس پارٹی سبھی مذاہب کا احترام کرتی ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا میں تمام مذاہب اور مختلف طبقات کے افراد شامل ہیں ۔ میں سب کو ہندوستانی تصور کرتا ہوں ۔ یہی میرا او ر کانگریس پارٹی کا نظریہ ہے ۔ کانگریس میں بھی آر ایس ایس نظریات کے لوگ رہتے ہیں اور چند قائدین پارٹی چھوڑکر بھی جارہے ہیں کہ اس سوال پر راہول نے کہا کہ جو جارہے ہیں جانے دیجئے اس سے کانگریس پارٹی کی آلودگی صاف ہورہی ہے ۔ آرٹیکل 370 کو لے کر سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں کانگریس کا موقف الگ تھا اور غلام نبی آزاد کا موقف الگ تھا ۔ کانگریس پارٹی آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے خلاف تھی ۔ میں اقلیتوں کے بشمول سماج کے تمام طبقات سے اپیل کررہا ہوں وہ کانگریس اور بی جے پی کے ویژن پر غور کریں ۔ بی جے پی زہر پھیلارہی ہے اور کانگریس پارٹی محبت بانٹ رہی ہے ۔ آپ کیا چاہتے ہیں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ کانگریس پارٹی امن ، بھائی چارگی ، اتحاد فرقہ وارانہ ہمہ آہنگی چاہتی ہے جبکہ بی جے پی صرف سیاسی فائدے کیلئے بھائی بھائی کے درمیان نفرت پیدا کررہی ہے ۔ ہندوستان کو سیکولر ملک جمہوریت کا تحفظ کرنے کیلئے کانگریس پارٹی سڑک سے پارلیمنٹ تک جدوجہد کررہی ہے ۔ مگر ملک کی مختلف ریاستوں میں لوگ ٹی آر ایس جیسی علاقائی جماعتوں کو اہمیت دے رہے ہیں ۔ انہیں کامیاب بنارہے ہیں ۔ کامیاب ہوکر یہ علاقائی جماعتیں مرکز میں مودی کو مضبوط کررہی ہیں ۔ اس پر بھی عوام کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ راہول نے اپنے سیل فون میں ایک کلپ دیکھایا جس میں ایک خاتون مودی کی پالیسیوں ، مہنگائی ، بیروزگاری کی باتیں کررہی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہی ہے کہ مودی اور امیت شاہ کبھی سڑک پر عوام سے ملاقات نہیں کرتے پوری سیکوریٹی میں رہتے ہیں جبکہ راہول گاندھی بھارت جوڑو یاترا کرتے ہوئے سڑکوں پر سورہے ہیں ۔ سماج کے تمام طبقات کو گلے لگارہے ہیں اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کررہے ہیں ۔ لوگوں کا دل جیت رہے ہیں ۔ پدیاترا کرنے سے یہ فرق محسوس کیا جارہا ہے ۔ لوگوں میں شعور بیدار ہورہا ہے ۔ ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ۔ شرح بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ کانگریس پارٹی عوام میں اپنا ویژن پہونچارہی ہے وہ سمجھتے ہیں نفرت کے خلاف محبت کا ویژن پیش کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ اس اجلاس میں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خان ، شفیق الزماں ، قدسیہ تبسم ، شیخ فاروق حسین (میوا) محمد ساجد علی نے سوالات کئے ۔ ن