کانگریس قائدین پوری طرح متحد ہیں: مہیش کمار گوڑ

   

اپوزیشن جماعتوں کو عوام مقامی اداروں کے انتخابات میں سبق سکھائیں گے
حیدرآباد ۔6۔فروری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی بی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ذات پات کا سروے اور بی سی سروے پر اپوزیشن کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے، جس کے خلاف سی ایل پی کے اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریاست کی معاشی صورتحال پر ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن پیش کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں ہے، تمام قائدین متحدہ ہیں۔ 10 ارکان اسمبلی کے علحدہ اجلاس پر انہوں نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں برائی کیا ہے۔ کانگریس پارٹی ایک بہت بڑا خاندان ہے جس کے چند ارکان اگر آپس میں ملاقات کرتے ہوئے ڈنر کرتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ راہول گاندھی کی خواہشات کے مطابق تلنگانہ میں سائینٹفک طریقہ سے ذات پات کا سروے کیا گیا ۔ اس پر کسی کو شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سیاسی مفاد پرستی کیلئے سماج کے مختلف طبقات میں غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہیں۔ ان پر کسی کو بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست تلنگانہ میں آج تک کوئی ذات پات کا سروے نہیں ہے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں کیا گیا جامع خاندانی سروے کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی سرکاری طور پر اس کا اعلان کیا گیا۔ بی آر ایس پارٹی اسی سروے کو درست قرار دیتے ہوئے کانگریس کے کرائے گئے سروے کو غلط قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے جس کے خلاف کانگریس پارٹی ریاست کے دو مقامات پر بڑے جلسہ عام کا انعقاد کرتے ہوئے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرے گی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سی ایل پی کے اجلاس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل نے بھی اپنی اپنی تجاویزیں پیش کی ہیں۔ کے ٹی آر کے دہلی دورہ پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قائدین سے خفیہ ملاقات کی خاطر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ دہلی کے دورہ پر ہیں۔ ریاست کے عوام نے پہلے ہی بی آر ایس کو نظر انداز کردیا ہے ۔ مرکزی بی جے پی حکومت بجٹ میں تلنگانہ کو فراموش کردیا ہے جس کے خلاف عوام میں برہمی پائی جاتی ہے۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں عوام بی آر ایس اور بی جے پی کو سبق سکھائیں گے ۔ کانگریس پارٹی بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنی برتری کو ظاہر کرے گی ۔ کانگریس کے ایک سالہ دور حکومت میں عوام کے بہبود اور ریاست کی ترقی کیلئے بڑے پیمانہ پر اقدامات کئے گئے ہیں جس سے بی آر ایس اور بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور عوام میں حکومت کے تعلق سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ریاست کی عوام حکومت کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔2