کانگریس مقننہ پارٹی کا ہنگامی اجلاس، مختلف اُمور کا جائزہ

   

جی او 317 اور برقی شرحوں پر احتجاج، پولیس کے رویہ کے خلاف گورنر سے نمائندگی
حیدرآباد۔/9 جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا ہنگامی اجلاس آج حیدرآباد میں منعقد ہوا جس میں جی او 317 اور دیگر امور پر جدوجہد میں تیزی کا فیصلہ کیا گیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ارکان اسمبلی ڈی سریدھر بابو، جگا ریڈی، پی ویریا کے علاوہ رکن کونسل ٹی جیون ریڈی نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدہ کیلئے جمہوریت کا قتل کررہی ہے۔ پنجاب کے دورہ کے موقع پر سیکوریٹی میں کوتاہی سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈرامہ عہدہ کیلئے زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے پنجاب میں دلت کو چیف منسٹر بناکر دوسروں کیلئے مثال قائم کی ہے لیکن بی جے پی دلت چیف منسٹر کو برداشت کرنے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکوریٹی میں کوتاہی کے نام پر پنجاب میں صدر راج نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ملازمین کی تقسیم سے متعلق جی او 317 کے نتیجہ میں مقامی ہونے کی بنیاد پر تبادلوں کے بجائے من مانی فیصلے کئے جارہے ہیں۔ دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز اور ریاست پر ڈرامہ بازی کا الزام عائد کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کسانوں کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ دھان کی پیداوار کے بارے میں حکومت کے پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال کو ابتر قرار دیا اور کہا کہ پولیس نظم و نسق ٹی آر ایس کیڈر کی طرح کام کررہا ہے۔ اس سلسلہ میں سی ایل پی کا وفد ریاستی گورنر اور ڈائرکٹر جنرل پولیس سے نمائندگی کرے گا۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی وی وینکٹیشور راؤ کو معطل کرنے اور استعفی کی ہدایت دینے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا جن کے فرزند غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ سی ایل پی نے برقی شرحوں میں مجوزہ اضافہ کی مخالفت کی اور کہا کہ عوام پر اضافی بوجھ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سی ایل پی اور پی سی سی میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں پارٹی کے موقف پر عمل کرتے ہیں۔ سی ایل پی نے مختلف عوامی مسائل پر احتجاجی لائحہ عمل طئے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ر