یاد میں اس کی سسک سسک کر رونا دھونا کیا
گیلی لکڑی روز جلانا اچھی بات نہیں
نریندرمودی کی قیادت میں جس وقت 2014 میں بی جے پی کو مرکز میں اقتدار حاصل ہوا تھا اس کے بعد ایک نعرہ دیا گیا تھا کہ ہندوستان کو کانگریس سے مکت بنایا جائیگا ۔ ’ کانگریس مکت بھارت ‘ کا نعرہ دیتے ہوئے ابتداء میں ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں کانگریس کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں۔ کچھ سازشیں بھی ہوئیں۔ انتخابات میں دھاندلیاں کروائی گئیں۔ اپنے پالتو آلہ کاروں کو استعمال کیا گیا ۔ ہر جگہ ان آلہ کاروں نے بی جے پی کو انتخابی کامیابی سے روکنے کی بجائے کانگریس کے ووٹ کاٹتے ہوئے بی جے پی کی مدد کی اور خود کو بچانے میں کامیاب رہے ۔ کچھ علاقائی اور ریاستی جماعتوں نے بھی کانگریس مکت بھارت کے نعرہ کی تائید کی کیونکہ انہیں اپنے مستقبل کیلئے کانگریس سے خطرہ دکھائی دے رہا تھا ۔ کچھ علاقائی اور ریاستی جماعتوں نے حالانکہ کانگریس سے انحراف کرکے اپنا وجود منوایا ہے لیکن انہوں نے کانگریس کے خاتمہ میں بی جے پی کی مدد ضرور کی ۔ اب جو صورتحال پیدا ہوئی وہ در اصل اس نعرہ کی پوشیدہ سچائی کو ظاہر کرنے لگی ہے ۔ اب بی جے پی کانگریس مکت بھارت نہیںبلکہ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن مکت بھارت کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے ۔ بی جے پی جس طرح کے اقدامات میں مصروف ہے اور جس طرح سے اپوزیشن کے اقتدار والی ریاستوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کرتی جا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی نے کانگریس مکت بھارت کے نعرہ کو وسعت دیتے ہوئے اپوزیشن مکت بھارت کے منصوبے میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن ریاستوں میں کانگریس کا وجود کمزور ہوچکا ہے وہاں اب علاقائی جماعتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سب سے پہلے آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے صفایہ کی کوشش کی گئی اور انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کی مدد کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو کو سزا دی کیونکہ وہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات سے قبل کانگریس کی زیر قیادت اتحاد کیلئے مسلسل کوشش کر رہے تھے ۔ انہوں نے آندھرا پردیش میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کرکے انتخابی مقابلہ کیا تھا ۔
سارا ملک جانتا ہے کہ کس طرح سے مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو توڑا گیا ۔ اس کے قائدین سے انحراف کروایا گیا ۔ اس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے ساری طاقت جھونک دی گئی ۔ ترنمول قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ اس سب کے باوجود ترنمول کانگریس کو مغربی بنگال کے عوام نے اقتدار سونپا اور پہلے سے زیادہ تائید فراہم کی ۔ کرناٹک میں کانگریس کی تائید سے قائم ہوئی جے ڈی ایس زیر قیادت حکومت کو زوال کا شکار کرنے کیلئے وہاں کے ارکان اسمبلی کو کو بھی انحراف کیلئے مجبور کیا گیا ۔ بہار میں جنتادل یونائیٹیڈ کے سہارے اپنے قدم جمانے کے بعد اب خود جے ڈی یو کو بی جے پی کی بیساکھیوں کا سہارا لینے پر مجبور کردیا گیا ۔ اترپردیش میں جن چھوٹی چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کیا گیا ان کے پر کاٹنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ جموںو کشمیر میں پی ڈی پی سے اتحاد کیا گیا اور پھر وہاںصدر راج نافذ کرکے دونوں ہی علاقائی جماعتوں کے وجود کو ختم کرنے کیلئے ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقو ں میں بانٹ دیا گیا ۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی کا شیوسینا سے قدیم اتحاد تھا ۔ تاہم جب شیوسینا نے اپنی شناخت برقرار رکھنے اقتدار میں حصہ داری مانگی تو اس سے انکار کردیا گیا ۔ شیوسینا نے این سی پی اور کانگریس کی مدد سے حکومت قائم کی تو اسے بھی زوال کا شکار کرنے کیلئے سازشیں شروع کردی گئی تھیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب بی جے پی کی یہ سازشیں کامیاب ہونے کے قریب پہونچ رہی ہیں۔
ملک بھر میں یہ تاثر عام ہوگیا ہے کہ بی جے پی اب نہ صرف کانگریس کو بلکہ ملک کی تقریبا تمام اپوزیشن جماعتوںکو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہوچکی ہے ۔ ہر اس جماعت یا ہر اس حکومت کو زوال کا شکار کیا جا رہا ہے جو بی جے پی اور اس کی پالیسیوں سے اختلاف کرے گی یا بی جے پی کو روکنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ جو لوگ بی جے پی کی کامیابیوں میں در پردہ مدد کر رہے ہیں وہ اب بھی اقتدار کے اور دولت کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ تاہم ان حاشیہ برداروں اور تمام علاقائی جماعتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جب ان کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا سلسلہ بند ہوجائیگا تو ان کا نمبر آنے میں بھی دیر نہیں ہوگی ۔
