کانگریس ‘ ناراض قائدین کو منانے کی کوشش

   

Ferty9 Clinic

ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس کو ان دنوں شدید بحران کا سامنا ہے ۔ گذشتہ چند برسوں میں کانگریس پارٹی کو مسلسل انتخابی شکستوں نے حاشیہ پر لا کھڑا کردیا ہے ۔ اب خود پارٹی کے سینئر قائدین کی جانب سے پارٹی کے مستقبل اور قیادت پر سوال اٹھائے جانے شروع ہوگئے ہیں۔ کئی گوشوں سے کانگریس کے مستقبل کو تاریک قرار دیا جا رہا ہے ۔ جو انتخابی نتائج یکے بعد دیگرے سامنے آگے گئے ہیں ان سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ پارٹی اپنے زوال کے مراحل تیزی سے طئے کرتی جا رہی ہے ۔ خود پارٹی قائدین کی ایک دوسرے کے خلاف تنقیدیں اس مرحلہ میں بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ جہاں سینئرق ائدین پارٹی کے طرز کارکردگی سے ناراض ہیں وہیں پارٹی قیادت ان کو منانے کی کوشش کرتی نظر نہیں آ رہی تھی ۔ تاہم اب جبکہ پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے اور سینئر و ناراض قائدین کی سرگرمیوں میں بھی تیزی پیدا ہوگئی ہے ایسے میں کانگریس قیادت بھی کسی قدر حرکت میں آتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ایک دن قبل سابق صدر راہول گاندھی نے ہریانہ کے سابق چیف منسٹر بھوپیندر سنگھ ہوڈا سے ملاقات کی تھی اور ناراض قائدین کو منانے کی سمت پہل کی تھی ۔ آج کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ناراض قائدین کے سرکردہ نمائندے غلام نبی آزاد سے ملاقات کی ہے ۔ بات چیت میں کیا کچھ گفتگو ہوئی ہے اس کا ابھی تک کوئی خلاصہ نہیں ہوا ہے لیکن غلام نبی آزاد نے کہا کہ پارٹی قیادت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں کسی نے بھی سونیا گاندھی سے استعفی طلب نہیں کیا تھا ۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کانگریس میں قیادت کا فقدان نظر آتا ہے اور کوئی حرکیاتی قیادت پارٹی میں موجود نہیں ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس نے پارٹی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ ایسے میں پارٹی اب ناراض قائدین کو منانے کیلئے سرگرم ہوئی ہے تویہ خود پارٹی کیلئے ایک اچھی علامت ہے ۔ تاہم یہ کوششیںعلامتی نہیں بلکہ پوری سنجیدگی کے ساتھ انجام پانی چاہئیں۔
جن قائدین نے پارٹی میں جی 23 بنالیا ہے وہ انتہائی تجربہ کار اور باصلاحیت قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے کانگریس کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے علاوہ حکومتوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ ایک وسیع تجربہ کے مالک ہیں۔ عوام کی نبض کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عوام کو پارٹی سے قریب لانے کیلئے اچھے مشورے اور تجاویز پیش کرسکتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کوا ن قائدین کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پہلے سے محسوس کی جا رہی تھی ۔ جو شروعات ہوئی ہے اسے اچھی کہا جاسکتا ہے تاہم اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس پہل کے نتائج بھی اچھے سامنے آئیں۔ پارٹی میں ناراضگی اور اختلافات کو دور کرنے اور آپسی چپقلش کو فراموش کرنے کی سمت پیشرفت کی جائے ۔ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ کو مستحکم کرنے کیلئے سینئر قائدین کی رائے حاصل کی جائے ۔ ان سے مشورہ کرتے ہوئے پارٹی کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔ ان کے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے پارٹی کے انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کی سمت کام کیا جائے ۔ جب تک پارٹی میں اتحاد نہیں ہوگا اس وقت تک انتخابی سیاست میں بہتر کارکردگی دکھانا کانگریس کیلئے مشکل ہوگا ۔ 2024 میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے قبل بھی چند ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ابھی سے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف وقتی کاوش موثر ثابت نہیں ہوسکتی ۔
سینئر قائدین کو بھی پارٹی فورم میں اپنے خیالات و رائے کو پیش کرتے ہوئے پارٹی کے استحکام کیلئے تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ آج اگر یہ قائدین پارٹی میں پھوٹ ڈالتے ہوئے نئی جماعت قائم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کیا ہونگے یہ ابھی کہا نہیں جا سکتا ۔ اگر کانگریس پارٹی ہی کو مستحکم کرنے کیلئے سبھی گوشوں کی جانب سے کوششیں ہوتی ہیں تو اس کے نتائج ثمر آور ہونے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ پارٹی کیڈر میں بھی ایک جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی کو دوبارہ عوامی تائید ملنا ناممکن ہیں ہے ۔ پارٹی قیادت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ ناراض قائدین کی شکایات کو دور کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھے۔