کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس

   

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کانگریس ورکنگ کمیٹی کا ایک اجلاس 16 اکٹوبر کو منعقد ہونے والا ہے ۔ آئندہ ہفتے کو ہونے والے اس اجلاس کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ اس میں پارٹی صدارت کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔ اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں شکست پر راہول گاندھی نے پارٹی صدارت سے استعفی پیش کردیا تھا ۔ اس کے بعد سے کانگریس میں کوئی مستقل صدر نہیں ہے ۔ بحالت مجبوری پارٹی میںسونیا گاندھی کو عبوری صدر بناتے ہوئے کام چلایا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی سے استعفی واپس لینے کیلئے کئی گوشوں سے اپیل کی گئی تھی جسے راہول نے قبول نہیں کیا تھا ۔ ایک طویل وقت پارٹی صدر کے بغیر گذر چکا ہے ۔ پارٹی کے 23 سینئر قائدین نے بھی اس سلسلہ میں پارٹی قیادت کو متوجہ کرنا چاہا تھا ۔ اس وقت ان کو مخالف یا باغی گروپ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا گیا تھا ۔ تاہم اب جبکہ پارٹی کیلئے حالات بہتر ہونے کی بجائے بگڑتے ہی جا رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی اس تعلق سے پوری سنجیدگی سے غور و خوض کرے اور کوئی ایسا فیصلہ کرے جس میں نوجوان قائدین کیلئے جہاں مواقع دستیاب رہیں وہیں سینئر قائدین کیلئے بھی ذمہ داریاں رہیں۔ کسی کو بھی یہ احساس نہ ہو کہ پارٹی میں ان کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے یا انہیں ان کا جائز مقام حاصل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ کانگریس کیلئے ضروری ہے کہ وہ انتہائی کم وقت میں پارٹی کے تنظیمی امور کو مکمل کرلے ۔ پارٹی کو آئندہ سال کے اوائل میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنا ہے ۔ مستقل اور مستحکم صدر کی غیر موجودگی پارٹی کے انتخابی امکانات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں پارٹکی میں گروپ بندیوں کو بھی ہوا مل رہی ہے ۔ اس تعلق سے کسی کو بھی شک نہیں ہوسکتا کہ صدر کے بغیر پارٹی کو چلانا پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ایسے میں پارٹی کیلئے ایک ہمہ وقت دستیاب اور عوامی مقبولیت رکھنے والے فرد کو صدارت سونپنے کی ضرورت ہے ۔ نئے صدر کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جانا چاہئے اور اس کیلئے مشیران اور ساتھیوں کا بھی تعین کرتے ہوئے انہیں بھی جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے ۔
حالیہ وقتوں میں ہم نے دیکھا کہ یکے بعد دیگر کئی مقامات پر کانگریس کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پنجاب میں چیف منسٹر کو تبدیل کرنا پڑا ۔ سابق چیف منسٹر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔ پردیش کانگریس کے صدر کی حیثیت سے بھی نوجوت سنگھ سدھو نے استعفی کا اعلان کردیا تھا ۔ ابھی وہ قبول نہیں ہوا ہے اور نہ ہی انہوں نے باضابطہ طور پر اسے واپس لیا ہے ۔ چھتیس گڑھ میں بھی حالات پارٹی کے حق میں بگڑنے لگے ہیں۔ اترپردیش میں صرف ایک پرینکا گاندھی کی وجہ سے وجود کا احساس دلانے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ گذشتہ دنوں لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد جس طرح سے پرینکا گاندھی نے فوری حرکت میں آتے ہوئے وہاں پہونچنے کی کوشش کی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا اس کی وجہ سے پارٹی کو قدرے عوامی توجہ حاصل ہوئی ہے ۔ گوا میں سابق چیف منسٹر نے پارٹی سے ترک تعلق کرلیا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی حالات ایسے ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر پارٹی اب بھی اپنے لئے نئے صدر کا انتخاب نہیں کرتی ہے تو اس کیلئے حالات مشکل ہی ہوتے جائیں گے ۔ پارٹی کو چاہئے کہ سینئر قائدین کو اعتماد میں لیتے ہوئے ۔ ان سے مشاورت کرتے ہوئے اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے تبادلہ خیال کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ تمام ریاستی صدور سے بھی رائے لی جانی چاہئے اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے اور پھر کسی ایک نتیجہ پر پہونچتے ہوئے سبھی قائدین کو نئے صدر کیلئے کام کرنے تیار کرنا چاہئے ۔
کانگریس پارٹی میں فی الحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ کارکنوں سے زیادہ قائدین کی تعداد ہے ۔ ایسے میں سبھی کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ضرور ہوسکتا ہے لیکن سینئر قائدین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی نوجوان قائدین کو زیادہ انتظار کروایا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں سبھی کی رائے کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی کے مفادات کو ترجیح دینے والوں کو آگے لانے اور کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک نئے صدر کا انتخاب کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہونچنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بھی پارٹی سے قریب کیا جاسکے ۔ اس کام میں جتنی زیادہ تاخیر کی جائے گی اتنی ہی پارٹی کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔