کانگریس کا داخلی خلفشار کب ختم ہوگا؟

   

گذشتہ سات برسوں میں کانگریس پارٹی کی جو حالت ہوئی ہے وہ سارے ملک پر عیاں ہے ۔ ملک کی تقریبا ہر ریاست میں پارٹی کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کہیں عوام اسے اپنے ووٹ کے ذریعہ اقتدار سے محروم کر رہے ہیں تو کہیں بی جے پی توڑ جوڑ کے ذریعہ اس کی حکومتوں کو زوال کا شکار کر رہی ہے ۔ کہیں پارٹی کے قائدین خود آپسی اختلافات کے ذریعہ پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں اور اس کے انتخابی امکانات کو متاثر کر رہے ہیں۔ ملک کی کسی نہ کسی ریاست میں جاری رہنے والے انتخابات کے دوران پارٹی کو انتہائی تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس کے باوجود پارٹی میں اختلافات اور داخلی خلفشار ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ اختلافات کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ سینئر قائدین کی ناراضگی اپنی جگہ برقرار ہے اور وہ پارٹی سے تعاون کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ پارٹی کی مسلسل شکستوں کے ہی خواہشمند ہیں تاکہ ان کی ناراضگی کا جواز پیش کیا جاسکے اور قیادت کو نشانہ بنایا جاسکے ۔ جہاں تک قیادت کا سوال ہے تو ایسا تاثر عام ہوگیا ہے کہ کانگریس پارٹی بغیر سر والے دھڑ جیسی ہوگئی ہے کیونکہ اس میں صدارت کہیں نظر نہیں آتی ۔ سونیا گاندھی یقینی طور پر پارٹی کی کارگذار صدر ہیں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ سینئر قائدین اپنے لئے الگ راہ کا تعین کرتے ہیں تو راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی اپنے لئے الگ راہ منتخب کرتے ہیں۔ پارٹی میں داخلی الجھنوں نے صورتحال کو اور بھی پیچیدہ بنادیا ہے اور کانگریس پارٹی کے وجود پر ہی سوال اٹھنے لگ گئے ہیں۔ پارٹی کیلئے کرو یا مرو جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس کے باوجود اختلافات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں بلکہ ان میںاضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ جو قائدین لالچ اور حرص کا شکار ہیں انہیں خریدا جا رہا ہے ۔ انہیں ہی پارٹی کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے ۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ علاقائی جماعتیں بھی اب کانگریس کے قائدین کو توڑنے اورا پنی صفوں میں شامل کرنے میں کامیاب ہوتی جا رہی ہیں ۔ تازہ ترین مثال شتروگھن سنہا کی ہے جو ترنمول کا دامن تھام چکے ہیں۔
سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی میں قیادت کا بحران ہے ۔ سونیا گاندھی اپنی صحت کی وجہ سے ذمہ داریوں کی پوری طرح سے تکمیل کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں۔ وہ کارکنوں سے رابطے میں نہیں ہیں۔ پارٹی قیادت کے تئیں قائدین اور کارکنوں میں وہ والہانہ جذبات نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے ۔ صرف گاندھی خاندان ہونے کی وجہ سے عوام یا رائے دہندے پارٹی سے جڑنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہیں عوامی سطح پر قیادت اور پارٹی کے وجود کا احساس دلانے کی ضرورت ہے جس میں کانگریس پارٹی بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے ۔ پنجاب میں اقتدار سے محرومی کے بعد اب راجستھان اور چھتیس گڑھ میں پارٹی کیلئے اقتدار بچانا اور بھی مشکل کام ہوگیا ہے ۔ حالانکہ ان ریاستوں میں دوسری علاقائی جماعتوں کا کوئی خاص وجود نہیں ہے اور یہاں صرف دو جماعتوں کے مابین مقابلہ ہوگا لیکن یہ کانگریس پارٹی کیلئے زیادہ چیلنجنگ کام ہوسکتا ہے ۔ پارٹی کی جو موجودہ قیادت ہے وہ حالات کے رحم و کرم پر ہوگئی ہے ۔ وہ پارٹی کے داخلی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ تمام قائدین کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں ہو رہی ہے ۔ ناراض قائدین کی شکایات کی سماعت بھی نہیں کی گئی ہے ۔ ان کے اعتراضات کو سمجھنے اور ان کو ساتھ لیتے ہوئے اتحاد کو فروغ دینے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ پارٹی ایک ایسی گاڑی ہوگئی ہے جس کو ہر قائد اور لیڈر اپنی مرضی سے اپنے طئے شدہ سمت میں چلانا چاہتا ہے ۔
ملک کی سب سے قدیم اور جدجہد آزادی میں اہم رول ادا کرنے والی پارٹی کا آج یہ حال اس کے اپنے قائدین کی نا اہلی کا ثبوت ہے ۔ آج اقتدار کی وجہ سے بی جے پی میں ناراض سرگرمیوں کا کوئی وجود نظر نہیں آتا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرکزی قیادت کی گرفت مضبوط ہے اور کانگریس میں اسی چیز کا سب سے زیادہ فقدان ہے ۔ اگر کانگریس کو اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے تو اسے ایک طویل لڑائی کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا ۔ جب تک پارٹی خود اپنے وجود کا احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہوتی اس وقت تک عوام کی تائید حاصل کرنے کی امیدیں رکھنا دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہوگا ۔