تلنگانہ میں بی آر ایس کا دور ختم، اسمبلی میں مباحث کرنے کا چیلنج، کوڑنگل میں نومنتخب سرپنچوں سے خطاب
حیدرآباد ۔ 24۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ 2029 اسمبلی انتخابات میں 119 اسمبلی حلقہ جات میں 87 حلقوں پر کانگریس کی کامیابی کے ذریعہ پارٹی کو دوبارہ برسر اقتدار لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 150 اسمبلی حلقہ جات پر الیکشن ہوتا ہے تو 100 سے زائد نشستوں پر کامیابی کے ساتھ کانگریس دوبارہ برسر اقتدار آئے گی۔ یہ بی آر ایس کے لئے میرا چیلنج ہے اور اگر ہمت ہو تو اسے قبول کریں۔ چیف منسٹر نے آج اپنے انتخابی حلقہ کوڑنگل میں نومنتخب سرپنچوں کی تہنیتی تقریب میں شرکت کی۔ نارائن پیٹ ضلع کے کوسگی میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں تمام نومنتخب سرپنچ ، نائب سرپنچ اور وارڈ ممبرس نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ریونت ریڈی نے سابق چیف منسٹر کے سی آر کو انتباہ دیا کہ وہ کانگریس کے بارے میں اظہار خیال کے وقت اپنی زبان قابو میں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب تک سرگرم سیاست میں رہوں گا ، کے سی آر کو دوبارہ برسر اقتدار آنے نہیں دوں گا اور یہ میرا عوام کے درمیان عہد ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس اور کے سی آر کی تاریخ ختم ہوچکی ہے اور میں کوڑنگل کی سرزمین سے اعلان کرتا ہوں کہ دوبارہ کے سی آر کو برسر اقتدار آنے نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ 10 حامیوں کے درمیان بیٹھ کر بڑی باتیں کرنا آسان ہے ، اگر کے سی آر میں ہمت ہو تو وہ اسمبلی میں آئیں اور مباحث کریں۔ حکومت کسی بھی مسئلہ پر بحث کیلئے تیار ہے ۔ کالیشورم پراجکٹ ، کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم اور فون ٹیاپنگ مسئلہ پر مباحث کے لئے حکومت تیار ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر کی دختر کویتا نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں ان کے شوہر کا فون ٹیاپ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی بہن کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر کے ٹی آر مجھ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی بی آر ایس کی دھمکیوں سے خائف ہونے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کے سی آر سے کہا کہ کانگریس کی چمڑی ادھیڑنے سے پہلے اپنی چمڑی کی فکر کریں کیونکہ کانگریس کے سرپنچ چمڑی ادھیڑنے کیلئے تیار ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فارم ہاؤز تک محدود رہنے والے کے سی آر طویل عرصہ کے بعد باہر آئے اور چمڑی ادھیڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارے سرپنچ ان بڑی باتوں کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اپنے مقام اور عہدہ سے ہٹ کر گھٹیا بیانات دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے ٹی آر تلنگانہ میں رئیل اسٹیٹ کاروبار کے بند ہونے کی بات کر رہے ہیں جبکہ کے سی آر حکومت پر رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں کس کی بات درست ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میں نے کبھی بھی پاسپورٹ بروکر کا کام نہیں کیا اور نہ ہی والد کا نام استعمال کرتے ہوئے وزارت حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، جس نے بھی گناہ کیا ہے ، اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کانگریس کے قریب آئے گا تو کارکن منہ توڑ جواب دیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کو شکست سے دوچار کیا گیا اور پارلیمنٹ چناؤ میں بی آر ایس کا نتیجہ صفر رہا ۔ جوبلی ہلز اور کنٹونمنٹ کے ضمنی چناؤ میں عوام نے کانگریس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ پنچایت چناؤ میں 12726 سرپنچوں میں کانگریس کے 8335 سرپنچ منتخب ہوئے ہیں۔ بدترین شکست کے باوجود بی آر ایس قائدین کانگریس کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ اگر ہمت ہو تو 2029 کے انتخابات میں سامنا کر کے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 ڈسمبر سے اسمبلی اجلاس شروع ہوگا اور کے سی آر کو عوامی مسائل پر مباحث کے لئے اسمبلی آنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر 40 سالہ سیاسی تجربہ کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کیا ایک سابق چیف منسٹر کا انداز گفتگو یہی ہونا چاہئے ؟ میں بھی بنیادی سطح سے آیا ہوں۔ میں بھی اسی انداز میں جواب دے سکتا ہوں ۔1
