٭کے سی آر حکومت کو مجوزہ بلدی چناؤ کی جلدی نہیں
٭ آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد بی جے پی کی مقبولیت بڑھ گئی
٭ چیف منسٹر نے سیاسی ماحول میں تبدیلی پر حکمت عملی بدل دی
حیدرآباد۔9اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے جاریہ ماہ کے دوران ریاست میں مجوزہ بلدی انتخابات کروانے میں اب دلچسپی باقی نہیں رہی اور حکومت کی جانب سے بلدی انتخابات میں ہونے والی تاخیر پر بھی ردعمل ظاہر کرنے سے اجتناب کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس تاخیر پر تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کسی بھی طرح کی عجلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس بات کی ہدایت دی ہے کہ بلدی انتخابات کے انعقاد میں کوئی عجلت نہ کی جائے کیونکہ سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں کانگریس کے خاتمہ کی کوشش کرنے والی تلنگانہ راشٹر سمیتی اب بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہونے والی مقبولیت سے خائف ہوتی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ کشمیر میں آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد ریاست تلنگانہ میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھرپور عوامی تائید حاصل ہونے لگی ہے جس کی اطلاعات چیف منسٹر کو موصول ہورہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں مجوزہ بلدی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی تیاریوں کو شدید دھکا پہنچا ہے اور اب آرٹیکل 370کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ کی بیشتر بلدیات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست عوامی تائید حاصل ہونے کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی نے سال2018 اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست سے کانگریس کے صفائے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ میں کانگریس اب باقی نہیں رہے گی اور انتخابی نتائج کے بعد جن نشستوں پر کانگریس امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی ان کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے کانگریس مقننہ پارٹی کو ختم کردیا گیا
لیکن اب تلنگانہ راشٹرسمیتی بھارتیہ جنتا پارٹی سے خائف ہے کیونکہ ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2019 عام انتخابات کے دوران ہی بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے 4 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کی جن میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی دو اہم نشستیں شامل تھیں۔ حلقہ لوک سبھا نظام آباد جہاں سے خود تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ کی دختر مسز کے کویتا ٹی آر ایس امیدوار تھیں اور حلقہ لوک سبھا کریم نگر جہاں سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی رفیق مسٹر بی ونود کمار ٹی آر ایس امیدوار تھے دونوں کو ہی بھارتیہ جنتا پارٹی امیدواروں نے شکست سے دوچار کیا تھا۔ قبل ازیں حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کی بلدیات میں انتخابات کے انعقاد میں عجلت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا اور اسی وجہ سے حکومت نے خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے نئے بلدی قوانین کو منظور کروانے کی کوشش کی لیکن اس پر گورنر کی جانب سے روک لگا دیئے جانے کے بعد دوبارہ آرڈیننس جاری کیا گیا اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاست تلنگانہ میں عوام کو شفاف حکمرانی کی فراہمی میں تلنگانہ راشٹر سمیتی سنجیدہ ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کشمیر مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں آرٹیکل 370 کی تنسیخ نے تلنگانہ میں دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لہر پیدا کردی ہے جس کے سبب اب تلنگانہ راشٹر سمیتی بھی فوری انتخابات کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر اب انتخابات منعقد کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کی بیشتر بلدیات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قبضہ کا قوی امکان ہے۔
